مورخہ 9فروری 2016ء بروزمنگل

حاجی حلیم جان کا قتل حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، حاجی غلام احمد بلور
صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ،عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے
صوبے کو بیک وقت دہشتگردی اور لاقانونیت کا سامنا ہے،حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے قصہ خوانی میں تاجر رہنما حاجی حلیم جان کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ حاجی حلیم جان تاجر برادری میں ایک اہم مقام رکھتے تھے اور زندگی بھر تاجروں کے حقوق کیلئے سرگرم رہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بے پناہ اضافہ حکومت کی نا اہلی کا ثبوت ہے ،دہشت گرد شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ حکمران درخت لگانے کی مہم میں مصروف ہیں ،حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ صوبہ ، شہر ناپرسان کا نقشہ پیش کر رہا ہے اور واقعات کی شرح سے لگ یہ رہا ہے جیسے صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہو۔انہوں نے کہا کہ پشاور سمیت دیگر اہم شہر بھی بھتہ خوروں ، ٹارگٹ کلرز اور ڈاکہ زنوں ، اغواء کاروں کے نرغے میں ہیں تاہم حکومت غفلت ، لاپرواہی اور خاموشی پر مبنی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اخلاقی جرائم کی تعداد میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور کوئی بھی شہری ، علاقہ یا طبقہ محفوظ نہیں ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ شریف النفس لوگ خوف اور عدم تحفظ کے باعث بڑی تعداد میں دیگر علاقوں اور صوبوں میں منتقل ہو رہے ہیں جبکہ صوبے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے تاجر اور سرمایہ کار بھی دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔
اے این پی کے رہنما نے مزید کہا کہ صوبے کو بیک وقت دہشتگردی اور لاقانونیت کا سامنا ہے تاہم حکومت نے اس تمام صورتحال پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور عوام کے تحفظ کیلئے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صوبے میں بدترین انارکی پھیل جائیگی اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔