مورخہ 6مئی2016ء بروز جمعہ

جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والے اقدام سے ہر صورت بچنے کی کوشش کی جائے، میاں افتخار حسین
پانامہ لیکس پر چیف جسٹس کی زیر نگرانی ایسا تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے جس کو سب سیاسی جماعتوں کا اعتماد حاصل ہو
پنجاب میں آپریشن کی رفتار انتہائی سست ہے شاید حکومت اور سیکورٹی اداروں میں اعتماد کا فقدان ہے
پانامہ لیکس کے شور میں دہشتگردی کے مسئلہ کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے جو تاریخی اور ناقابل معافی غلطی ہو گی۔
چائنا پاک اقتصادی راہداری پر وزیراعظم کا اپنے وعدے سے مکرُ جانا ہمارا معاشی قتل ہے، ہریانہ میں خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس اور اس سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی زیر نگرانی ایسا قابل قبول تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے جس کو سب سیاسی جماعتوں کا اعتماد حاصل ہو اور ایسے اقدام یا بحران سے بچنے کی یقینی کوشش کی جائے جس سے جمہوری نظام کے ڈی رول ہونے کا خدشہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 8کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ہریانہ میں ایک انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے مرکزی حکومت اور عمران خان کی جانب سے ایک دوسرے پر محض الزامات لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں فریقوں کی مکمل اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں ،اورجن پر بھی الزامات سچ ثابت ہوجائیں ان کے خلاف بلاامتیاز وبلاتفریق قانونی کارروائی کی جائے ،انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے بارے میں کسی کے خلاف بیان بازی یاالزام لگانے میں محتاط رویہ اور طرز عمل اپنایا جائے ،کیوں کہ ریکارڈ کا بقیہ حصہ ابھی منظرعام پر نہیں آیا ہے اور بہت سی تفصیلات کا سامنے آنا ابھی باقی ہے جس میں تقریباً دو سو سے زائد نامی گرامی افراد کے نام شامل ہیں،جس سے ایک نیا پنڈورا بکس کھل جائے گا ، پنجاب میں آپریشن کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ آپریشن کی رفتار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز کے مابین باہمی اعتماد کا فقدان ہے جس کے باعث آپریشن سست روی کا شکار نظر آرہا ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے پورے ملک میں ایک تناور درخت کی شکل اختیار کررکھی ہے۔ لہذا جہاں جہاں بھی اس کی جڑیں موجود ہیں ان کی مکمل بیخ کنی کرنی ہوگی اور ملک کے جس حصے سے بھی دہشت گردی،انتہاپسندی اور فرقہ واریت کی نظریاتی تعلیم پھیلتی ہے ان تمام سرچشموں کو بندکرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ چائنا پاک اقتصادی راہداری میں وزیراعظم کا اپنے وعدے سے مکرُ جانا ہمارا معاشی قتل اور ہمارے بچوں کے منہ سے نوالا چھیننے کی کوشش ہے جسے ہم کسی طور برداشت نہیں کریں گے ،انہوں نے کہا کہ ہمارے قبائلی علاقوں کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ تمام قبائلی مشران کو ایک ایک کرکے شہید کیاگیا اور وہاں دہشت گردی اور آپریشن کی وجہ سے قبائل کی اکثریت آج متاثرین کی زندگی گزاررہے ہیں،صوبائی اور مرکزی حکومت کو ان متاثرین کی مشکلات پر خصوصی توجہ دینی ہوگی جبکہ پانامہ لیکس کے شور میں دہشتگردی کے مسئلہ کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے جو تاریخی اور ناقابل معافی غلطی ہو گی۔