2016 جلال آبادحملہ، امن دُشمن قوتوں سے مفاہمتی کوششیں برداشت نہیں ہو رہی ہیں۔ میاں افتخار حسین

جلال آبادحملہ، امن دُشمن قوتوں سے مفاہمتی کوششیں برداشت نہیں ہو رہی ہیں۔ میاں افتخار حسین

جلال آبادحملہ، امن دُشمن قوتوں سے مفاہمتی کوششیں برداشت نہیں ہو رہی ہیں۔ میاں افتخار حسین

Mian

مورخہ : 13.1.2016 بروز بدھ

جلال آبادحملہ ۔ امن دُشمن قوتوں سے مفاہمتی کوششیں برداشت نہیں ہو رہی ہیں۔ میاں افتخار حسین
حملہ آور قوتیں چاہتی ہیں کہ ایسے حملوں کے ذریعے امن کی مفاہمتی کوششوں کو سبوتاژ کیاجائے۔
پاکستان ، افغانستان اور بھارت کی حکومتیں تدبر اور ہوش کا مظاہرہ کر کے امن کیلئے کیے جانے والے اقدامات کو آگے بڑھائیں۔
بدلتے حالات میں خطہ مزید تجربات اور تلخی کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے تینوں ممالک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے جلال آباد افغانستان میں پاکستان کے قونصل خانے پر کرائے گئے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض قوتیں ایک منظم منصوبے کے تحت پاکستان اور افغانستان کے بہتر تعلقات کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاہم دونوں ممالک کو ایسے مواقع پر تدبر اور ہوش سے کام لیتے ہوئے امن اور اعتماد سازی کی کوششوں کو جاری رکھنا چاہئے تاکہ مشترکہ طورانتہا پسند قوتوں سے نمٹا جائے اور امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ مذمتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی ابتداء ہوتی ہے بعض قوتیں ایسے ہر عمل کو سبوتاژ کرنے کیلئے سرگرم عمل ہو جاتی ہیں اور حالیہ واقعات دہشتگردوں کی اس پالیسی اور طریقہ کار کاایک تسلسل ہے۔
اُنہوں نے کہ کہا کہ پاکستان ، افغانستان اور بھارت کے درمیان حال ہی میں مفاہمت کا جو سلسلہ چل نکلا ہے وہ انتہائی خوش آئند ہے تاہم امن کے مخالفین سے یہ رابطے برداشت نہیں ہو رہے اور وہ تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدگی کیلئے اس قسم کے حملے کراتے رہتے ہیں تاکہ بداعتمادی کو فروغ دیا جائے اور مفاہمتی عمل کو بریک لگائے جائیں۔
اُنہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ایسے افسوسناک واقعات کے باوجود مفاہمتی عمل کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے امن کے قیام کیلئے اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھائیں اُنہوں نے کہا کہ ایسے واقعات پر کسی قسم کے جذباتی رد عمل سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ حملہ آور قوتیں یہی چاہتی ہیں کہ مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کیا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بدلتے حالات کے تناظر میں ایسے واقعات کی مستقل ، سد باب کے امکانات کے راستے ڈھونڈے جائیں اور اے این پی کو توقع ہے کہ مفاہمتی عمل کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اُنہوں نے جلال آباد میں مزید خودکش حملوں کی کوشش کا ناکام بنانے اور سفارتی عملے کی حفاظت پر افغان فورسز کی تعریف کی اور اُمید ظاہر کی کہ افغان حکومت اسی صلاحیت جذبے کے تحت آگے بڑھتی رہے گی۔ اُنہوں نے واقعے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔
میاں افتخار حسین نے کوئٹہ میں پولیو سینٹر پر کرائے گئے حملے کی بھی بھرپور مذمت کرتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کی۔

شیئر کریں