مورخہ : 19.4.2016 بروز منگل

جشن پختونخوا کے سلسلے میں پشاور سمیت پورے صوبے میں تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد
باچا خان مرکز پشاور میں مرکزی تقریب کا اہتمام ، مرکزی ، صوبائی اور ضلعی قائدین کے علاوہ کارکنوں کی بڑی تعداد کی تقریب میں شرکت
اٹھارویں ترمیم اور دیگر آئینی اصلاحات کے باوجود صوبہ پختونخوا اور فاٹا کے عوام اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔
بینک آف خیبر کی نجکاری اور اس کی تباہی کی کوششوں کی شدید مزاحمت کی جائیگی۔ حکومت پنجاب میں موثر آپریشن سے گریز کر رہی ہے۔
صوبے کے حقوق کی سودے بازی کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائیگا۔ تقریب سے میاں افتخارحسین اور سردار حسین بابک کا خطاب

پشاور( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی نے پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں جشن پختون خواکے نام سے مختلف تقریبات ،اجتماعات اور ریلیوں کا انعقاد کیا جس کے دوران 19اپریل 2010 کو صوبے کے نام کی تبدیلی کے تاریخی اقدام کو یاد کرکے سراہا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اے این پی صوبے کے مفادات کے تحفظ اور حقوق کے حصول کیلئے اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔جشن پختونخوا کے سلسلے میں باچا خان مرکز پشاور میں مرکزی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں پارٹی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے مرکزی ، صوبائی قائدین کے علاوہ سینکڑوں کارکن شریک ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے کو اس کے تاریخی نام کے ذریعے شناخت دینا خدائی خدمتگار تحریک سے لیکر اے این پی کے موجودہ اکابرین اور کارکنوں کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھا جس پر پارٹی کی لیڈر شپ اور کارکن بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔
اُنہوں نے ملک کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے خدشات اور تحفظات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں ۔ اٹھارویں ترمیم اور بعض دیگر اقدامات کے ذریعے چھوٹے صوبوں کو جو اختیارات دئیے گئے تھے ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا جبکہ فاٹا کے مستقبل کے فیصلے سمیت دیگر معاملات سے بھی حکمرانوں نے لاتعلقی اختیار کی ہوئی ہے جس کے باعث کروڑوں پشتونوں میں شدید تشویش پھیل گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب تک فاٹا کو صوبے میں شامل نہیں کیا جاتا اور صوبے کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے حقوق اور خودمختاری نہیں دی جاتی تب تک عوام میں سیاسی بے چینی پائی جاتی رہے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبر بینک سکینڈل سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ صوبے کے حکمران نہ صرف بدترین قسم کی بداعتمادی کاشکار ہیں بلکہ انتظامی اور مالی بدعنوانیوں میں بھی ملوث ہیں۔ بلیم گیم کی بجائے خیبر بینک سکینڈل کی تحقیقات کی جائیں اور اس ادارے کو تباہی سے بچایا جائے۔اُنہوں نے جے آئی کے سربراہ سراج الحق کو مشورہ دیا کہ وہ فری کرپشن مہم کے دوران اپنے محاسبے کو یقینی بنائیں۔
اُنہوں نے واضح کیا کہ خیبر بینک کی نجکاری کی مبینہ کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا بلکہ اس کی شدید مزاحمت کی جائیگی ۔ اُنہوں نے پنجاب میں آپریشن کی سست روی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اس کی راہ میں بوجوہ رکاوٹیں ڈالتی آرہی ہے اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پنجاب حکومت اور سیکیورٹی فورسز ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک کے حالات مختلف سکینڈلز اور لیکس کے باعث ویسے بھی اطمینان بخش نہیں ہیں جبکہ پنجاب میں آپریشن سے گریز ملک کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈالنے کا سبب بنتا جا رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ کسی کو بھی پشتونوں اور صوبے کے مفادات کا سودا کرنے نہیں دینگے۔ عوام موجودہ حکمرانوں سے مایوس اور بدظن ہو کر اے این پی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کو نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور عوام کی حمایت سے ان کی مزاحمت کی جائیگی۔
اُنہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں نے فاٹا اور پختونخوا کے عوام کو بے یارومدد گار چھوڑدیا ہے تاہم ہم عوام وقت آنے پر ان کا محاسبہ کریں گے اور ان کی زیادتیوں کا ان سے حساب لیا جائیگا۔
تقریب میں دوسروں کے علاوہ صوبائی صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ ، بشیر احمد مٹہ ، ہارون بشیر بلور ، جمیلہ گیلانی ، شگفتہ ملک ، یاسمین ضیاء ، شازیہ اورنگزیب ، ملک نسیم ، سرتاج خان ، ملک مصطفیٰ ، اعجاز احمد سیماب ، سنگین خان ایڈوکیٹ اور متعدد دیگر شریک ہوئے۔ اس موقع پر سارہ ایڈوکیٹ اور دلشاد احسن نے ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ تقریب کے صدر سید عاقل شاہ نے دونوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں۔