مورخہ 10اپریل2016ء بروز اتوار

ترقیاتی بجٹ کا ضیاع خیبر پختونخوا کے عوام سے دشمنی کا ثبوت ہے۔ہارون بشیر بلور
محکمہ لیبر کے چار منصوبوں کیلئے 7کروڑ 40لاکھ روپے مختص کئے گئے،لیکن اہداف حاصل نہ ہو سکے
عوام نے جس تبدیلی کیلئے پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے وہ اُ س کے ثمرات سے محروم رہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے حکومت اور بیوروکریسی کے درمیان جنگ کو صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اختیارات کی جنگ کے باعث صوبے میں ترقیاتی کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، اپنے ایک بیان میں ہارون بلور نے کہا کہ بیشتر محکمے فنڈز خرچ کرنے میں ناکام رہے اور یہ سلسلہ گزشتہ تین سال سے جاری ہے جس کے باعث صوبائی حکومت سے ہر سال بجٹ لیپس ہو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو عوام کے حقوق و مفادات سے کوئی سروکار نہیں ، انہوں نے خیبر پختونخوا کا ترقیاتی بجٹ ضائع ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت سیاسی ناتجربہ کاروں کا ٹولہ ہے اور انہیں صوبے کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ محکمہ لیبر کے چار منصوبوں کیلئے 7کروڑ 40لاکھ روپے مختص کئے گئے تاہم رواں مالی سال کے 9ماہ گزرنے کے باوجود ان میں سے صرف 3لاکھ 20لاکھ روپے خرچ کئے جا سکے ، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد نئی پالیسی کیلئے 79لاکھ 63ہزار روپے مختص کئے گئے لیکن بدقسمتی سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا جا سکا ، انہوں نے کہا کہ عوام نے جس تبدیلی کیلئے پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے وہ اُ س تبدیلی کے ثمرات سے محروم رہے اور بالآ خر تین سال بعد عوام کو صرف چوہے مارنے پر لگا دیا گیا ،انہوں نے کہا کہ محکمہ خزانہ اختیارات کی جنگ میں فریق بن بیٹھا ہے اور بیشتر منصوبوں کیلئے اس نے فنڈز جا ری ہی نہیں کئے ، صوبائی ترجمان نے کہا کہ حکومت عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرنے کی بجائے ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرے اور ترقیاتی فنڈز خرچ کر کے اس کے ثمرات عوام تک پہنچائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غربت کے خاتمے کیلئے مختص 8ارب روپے سے زائد میں سے اب تک جو رقم خرچ کی گئی اس کے بھی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے ، جبکہ توانائی اور تعلیم کیلئے مختص بجٹ بھی خرچ نہیں کئے جا سکے جس کی وجہ سے صوبہ رو بہ زوال ہے ،انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی فنڈز کو بروقت اور شفاف طریقے سے خرچ کرنے کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے اور صوبے کی ترقی کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے جائیں،