مورخہ : 16.4.2016 بروز ہفتہ

تبدیلی اور ترقی کی دعویدار صوبہ کش پالیسیوں اور رویوں پر گامزن ہیں۔ اے این پی
وزیر اعلیٰ خیبر بینک کے حالیہ سکینڈل سے خود کو بری الزمہ قرار نہیں دے سکتے وہ بنی گالہ کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔
موصوف کو صوبے کے حقوق اور مفادات کے علاوہ اپنے آبائی ضلع کی ترقی سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میاں افتخار حسین
تحریک انصاف اور اس کی حکومت کی مثال مالک کی بجائے کرایہ دار کی ہے۔ ان کی سیاست جھوٹ پر مبنی رہی ہے۔
صوبہ بدترین نااہلی، کرپشن اور عوامی بے چینی کی لپیٹ میں ہے۔ 2018 میں ان کا محاسبہ ہوگا۔ امیر حیدر خان ہوتی کا جہانگیرہ میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین اور صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے موجودہ صوبائی حکومت اور اس کی پالیسیوں کو صوبہ کش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کو بدترین بدانتظامی ، بدعنوانی اور انتظامی نا اہلی کا سامنا ہے۔ وزیر اعلیٰ بنی گالہ کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبے کے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں اور عوام کے علاوہ سرکاری ملازمین اور اداروں میں بھی بدترین قسم کی بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے جہانگیرہ (نوشہرہ) میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے حالات وزیر اعلیٰ ، اُن کی قیادت کی مداخلت اور صوبائی حکومت کی نا اہلی کے باعث بدسے بدتر ہوتے جا رہے ہیں جس کی تازہ مثال خیبر بینک کا سکینڈل ہے جس کے دوران نہ صرف یہ کہ وزیر خزانہ نے سینکڑوں غیر قانونی بھرتیاں کیں بلکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے ریکارڈ بھی توڑ ڈالے۔ اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی یہ کہہ کر خود کو بری الزمہ قرار نہیں دے سکتے کہ مزکورہ وزیر کا تعلق کسی اور پارٹی سے ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نے یہ اقدامات صوبے کے وزیر کی حیثیت سے کیے ہیں اور ان سمیت سب وزراء کے اعمال وزیر اعلیٰ براہ راست ذمہ دار بھی ہیں اور جوابدہ بھی۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے تین سال کے دوران صوبہ تو درکنار اپنے آبائی ضلع نوشہرہ کی ترقی کیلئے بھی کچھ نہیں کیا۔ اے این پی کے دور میں ہم نے وزیر کی حیثیت سے نوشہرہ کیلئے جو کام کیے تھے وہ پرویز خٹک نے وزیر اعلیٰ ہو کر بھی نہیں کیے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بنی گالہ سے ڈکٹیشن لیتے آئے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ نااہل اور بے اختیار ہیں بلکہ ان کو صوبے کے حقوق کے علاوہ اپنے آبائی علاقے کی نمائندگی اور ترقی سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اُنہوں نے پانامہ لیکس کے ایشو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بہت سے اور لوگوں کے نام بھی منظر عام پر آنے والے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جتنے بھی لیڈر اور دوسرے لوگ اس معاملے میں ملوث ہیں ان کے خلاف میرٹ کی بنیاد پر تحقیقات کی جائیں۔ میاں افتخار حسین نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک حالیہ جلسہ کے دوران پولیس فورس ، اساتذہ اور بعض دیگر اداروں کے خلاف دھمکی آمیز باتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس نے امن کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں تاہم وزیر اعلیٰ ان کی حوصلہ شکنی اور بے عزتی پر اُتر آئے ہیں جو کہ ناقابل مذمت ہے۔
جلسہ عام سے اپنے مختصر خطاب میں صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ تحریک انصاف اور ان کی حکومت کی مثال مدعی اور مالک کی بجائے کرایہ دار کی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبے کے مفادات اور حقوق داؤ پر لگے ہوئے ہیں اور صوبہ بدترین بدانتظامی ، کرپشن اور بے چینی کی لپیٹ میں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی حکومت اور ہمارے ترقیاتی منصوبوں کو صوبے کے عوام ستائشی الفاظ سے یاد کر رہے ہیں اور ان پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ تبدیلی اور ترقی کے دعوے محض جھوٹ پر مبنی تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام موجودہ حکومت سے نہ صرف یہ کہ تنگ آچکے ہیں بلکہ وہ اس کا خاتمہ چاہتے ہیں اور 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں کا سیاسی اور عوامی سطح پر محاسبہ کیا جائیگا۔جلسہ عام سے دونوں اہم لیڈروں کے علاوہ خلیل عباس ، جمعہ خان اور مسعود عباس نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر سینکڑوں افراد نے مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہو کراے این پی میں شمولیت اختیار کر لی۔