مورخہ : 12 مئی 2016 بروز جمعرات

تبدیلی اورمیرٹ کے نام پر پختونوں کو دھوکہ دیاگیا۔ امیر حیدر خان ہوتی
مرکزی اور صوبائی حکومتوں کوخیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں ۔
بلدیات دُشمن صوبائی حکومت نے عوامی نمائندوں کو اختیارات سے محروم کیے رکھا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے حکومت کے غیر قانونی فیصلے معطل کرکے انصاف کا بول بالا کردیاہے۔پی کے 23 میں جلسہ سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ نے رنجیت سنگھ بادشاہ کی طرح بیک قلم جنبش ضلع ناظم مردان اور نائب ناظم معطل کرکے بلدیات دشمنی کا کھلا ثبوت فراہم کیا ہے،پشاور ہائی کورٹ نے حکومت کے غیر قانونی فیصلے معطل کرکے انصاف کا بول بالا کردیاہے۔ ہمیں عدالت سے انصاف کی توقع ہے ،بلدیاتی ممبران اختیارات اور فنڈز کے لئے چیخ رہے ہیں اورشہرشہر احتجاج پر مجبورہیں اختیارات دینے کی بجائے تبدیلی والوں نے عوامی مینڈیٹ کی تضحیک اڑارہے ہیں ۔امیرحیدرخان ہوتی صوبائی حلقہ پی کے 23کے علاقہ قطب گڑھ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کررہے تھے جس میں ممتاز شخصیات حاجی محمد یوسف ،حاجی اورنگ زیب اوراکبرعلی نے مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی کے صوبائی صدر نے انہیں سرخ ٹوپیاں پہنائیں جلسے سے اے این پی کے رکن اسمبلی احمد بہادرخان اورپارٹی جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان نے بھی خطاب کیا۔اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہم نے پختون روایات کا جنازہ اٹھانے والے اورسٹیج پر ناچنے والوں کو بھی برداشت کیا کیونکہ عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے نوجوانوں کو روزگار کی بجائے چوہوں کے شکارپر لگانے والوں کے کارنامے بھی دیکھ لئے لیکن عوام کے ووٹ سے اقتدارمیں آنے والوں نے بلدیاتی نمائندوں کی مینڈیٹ برداشت نہیں رہی۔ انہوں نے کہاکہ کپتان بلدیاتی نمائندوں کوممبران اسمبلی اور وزیروں سے زیادہ اختیارات دینے کے نعرے اوردعوے کرتے رہے لیکن اب حال یہ ہے کہ انہیں اختیارات سے محروم کردیاہے اوران کے ترقیاتی فنڈز بھی روک لئے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ صوبائی حکومت بلدیات دشمن ہے وہ صرف اے این پی کی نہیں بلکہ تمام بلدیاتی نمائندوں کے خلاف ہے اوراس حوالے سے حکومتی اقدامات سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ضلع ناظم مردان حمایت اللہ مایار اورنائب ناظم اسدعلی کشمیری کو معطل کرکے حکومت نے رنجیت سنگھ بادشاہ کی یادتازہ کردی تاہم قانونی اورسیاسی جنگ کے حق میں ہیں ہم نے کہاتھاکہ حکومت نے غیر قانونی اقدام کیاہے وقت نے ہمارا موقف درست ثابت کردیااورعدالت سے ہمیں انصاف کی توقع ہے۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ پنجاب ،سندھ اور بلوچستان کی قومیں متحد ہیں اوروہاں لوگ اپنی اپنی پارٹیوں کوووٹ دیتے ہیں جبکہ پختونوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تقسیم درتقسیم ہیں لاہور سے میاں نوازشریف کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں اور میاں نوالی کے کپتان کو بھی ووٹ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پختونوں کے مسائل اورمصائب سے نجات باہمی اتفاق اور یکجہتی میں ہے انہوں نے پنڈال میں بیٹھے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ انتخابات میں بے شک ہرکسی کو سنیں مگر ووٹ صرف پختونوں کے پارٹی کو دیں۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ تبدیلی اورمیرٹ کے نام پر پختونوں کو دھوکہ دیاگیا ،تین سال میں انصاف اور میرٹ کے دعویدار نے نوجوانوں کو روزگارکی بجائے چوہوں کی شکار پر لگایا ان کاکہناتھاکہ نااہل حکمرانوں کاخزانہ خالی ہوچکاہے اب انہیں چوہے مارمہم بھی بند کرنا پڑی ہے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے میاں نوازشریف اور عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا خیبرپختون خوا کے غریب عوام کے مسائل سے کوئی سرورکار نہیں اور مسلسل پختونوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیارکررکھی ہے لیکن جو لیڈر اورپارٹیاں پختونوں کی حیثیت نہیں مانتیں میں ان کی سیاست اور پارٹی کو سرے سے ماننے کو تیارنہیں۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے اورتین سال گزرنے کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیاگیا انہوں نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم بننے کے لئے پنجاب کی سیاست کررہے ہیں جبکہ میاں نوازشریف اپنی کرسی بچانے میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی ہماری پارٹی مقبولیت سے خائف ہوگئی ہے انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے لے کر 2008تک صوبے میں صر ف 9یونیورسٹیاں تھیں جبکہ ہم نے اپنے دورحکومت میں دس یونیورسٹیاں قائم کرکے صوبے بھر میں علم کی روشنیاں بکھیر دیں امیرحیدرخان ہوتی نے کارکنوں کوہدایت کی کہ وہ پختون قوم کی یکجہتی اور اتحاد واتفاق کے لئے گھر گھر جاکر جرگے کریں اوران میں قوم پرستی کا جذبہ ابھارنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔