مورخہ : 19.4.2016 بروز منگل

نواز شریف اور عمران خان میں وزرات عظمیٰ کی دوڑ لگی ہوئی ہے اس لیے ان کی توجہ کا مرکز پنجاب ہے۔ امیر حیدر خان ہوتی
بینک آف خیبر کو بدنام اور ناکام کر کے اس کی نجکاری کی کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دی جائیگی۔
اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں بینک آف خیبر کی شاخوں کی تعداد 34 سے 84 تک بڑھائی جبکہ کروڑوں کی آمدن کو اربوں میں تبدیل کیا۔
عوام دونوں حکومتوں سے بیزار ہو کر اے این پی میں روزانہ کی بنیاد پر شامل ہو رہے ہیں۔ اُرمڑ پشاور میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان صوبہ پختونخوا اور پشتونوں کو اس لیے نظر انداز کر کے انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ صوبے کے ووٹوں اور ممبران اسمبلی سے وزیر اعظم بننا ممکن نہیں ہے اس لیے دونوں اس کوشش میں ہیں کہ پنجاب کے تناظر میں پالیسیاں اپنا کر اپنے سیاسی مفادات کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق پی کے 11 پشاور کے علاقے اُرمڑ میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے دونوں حکومتوں اور لیڈروں کے پشتون کش رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم چوتھی بار وزارت عظمیٰ کی پلاننگ میں مصروف عمل ہیں جبکہ عمران خان نے تو بہر صورت اس عہدے کے حصول کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اسی خواہش کی تکمیل کی کوششوں میں دونوں لیڈر صوبہ پختونخوا اور پشتونوں کے مفادات کے تحفظ کی اپنی ذمہ داریوں کے بجائے مسلسل زیادتی اور انتقام کے رویوں پر گامزن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر دونوں لیڈر لاتعلقی اور زیادتی کے رویے پر عمل پیرا ہیں۔ تو پشتونوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھی دونوں سے لاتعلقی اختیار کریں۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کو بدترین حکومتی کرپشن اورناہلی کا سامنا ہے اور بعض دوسرے واقعات کے علاہ بینک آف خیبر کا حالیہ سکینڈل اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبر بینک صوبے کا قیمتی اثاثہ ہے تاہم کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کو بدنام اور ناکام بناکر اس کی نجکاری کا راستہ ہموار کیا جا سکے جس کی کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دی جائیگی۔
اُنہوں نے کہا کہ 2008 کے دوران جب اے این پی برسراقتدار آئی تو بینک آف خیبر کی شاخوں کی تعداد 34 تھی تاہم 2013 تک یہ تعداد 84 تک پہنچ گئی جبکہ کروڑوں کی آمدنی اربوں میں تبدیل ہو گئی۔
اُنہوں نے کہا کہ جن قوتوں نے 2013 کے الیکشن میں اے این پی کو ایوانوں سے باہر رکھنے کی کوششیں کی تھیں وہ ناکامی سے دو چارہو چکی ہیں اور اے این پی کے کردار اور حکمران جماعتوں کی نااہلی کے باعث روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام حکمرانوں سے بیزار اور مایوس ہو چکے ہیں اور ان کی نظریں اے این پی پر ہیں کیونکہ یہ پارٹی اس خطے اور پشتونوں کے حقوق اور مفادات کی نگہبان سیاسی قوت ہے۔
قبل ازیں مختلف پارٹیوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد اے این پی میں شامل ہوئے۔ شمولیتی اجتماع سے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل اور سابق ایم پی اے ثاقب اللہ خان چمکنی نے بھی خطاب کیا جبکہ صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک بھی اجتماع میں شریک ہوئے۔