مورخہ : 9.5.2016 بروز پیر

بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے ملک دُنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے۔ اسفندیار ولی خان
شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
پروین رحمان کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور مجرموں کو نشان عبرت بنایا جائے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی روک تھام کا فوری مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں ایبٹ آباد میں خاتون کو قتل کر کے لاش کو جلا دینے کے اندوہناک واقعے، کراچی میں انسانی حقوق کے علمبردار خرم ذکی کی ٹارگٹ کلنگ ، کراچی میں مادرائے عدالت و قانون آفتاب احمد کی ہلاکت ، لاہور میں ڈی ایس پی کی مبینہ طور پر لڑکی سے ریپ ، پشاور ڈی آئی خان اور باالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں روزانہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے بہت بڑے پیمانے پر واقعات ہو رہے ہیں جو صوبائی حکومت کی کھلی ناکامی ہے لوگ کاروبار بند کر کے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آئین میں درج بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں سے دُنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے اور حکومت نے بدقسمتی سے ان واقعات پر موثر حکمت عملی نہیں بنائی ایک آدھ رسمی بیان کے علاوہ کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اُنہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں گھناؤنے واقعات کا نوٹس لیکر قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات اُٹھائے جائیں اور اس کے سد باب کیلئے ایک موثر پالیسی بنائی جائے کیونکہ ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے ورنہ عوام حکومت اور ریاستی ذمہ داران کا خوداحتساب کریں گے۔ اسفندیار ولی خان نے واضح کیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی جرائم پیشہ اور دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کی آواز اُٹھاتی اور جدوجہد کرتی رہی ہے۔ اُنہوں نے ممتاز سماجی شخصیت پروین رحمان کے اندوہناک قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی عدم تشدد پر یقین رکھتی ہے اور ہماری پارٹی نے تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف سینکڑوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پروین رحمان کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اے این پی بھرپور ساتھ دے گی۔