مورخہ : 24.2.2016 بروز بدھ

بعض حلقے اٹھارویں ترمیم کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ میاں افتخار حسین
یہ تاثر بہت عام ہے کہ مرکز اور پنجاب چھوٹے صوبوں کی حق تلفی کے رویے پر گامزن ہیں۔
لازمی ہے کہ مردم شماری سمیت تمام قومی معاملات کے دوران صوبوں کو یکساں اہمیت اور نمائندگی دی جائے۔
اٹھارویں ترمیم پر مکمل عمل درآمد سے وفاق اور صوبوں کے بہتر تعلقات مشروط ہیں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مردم شماری سمیت دیگر تمام قومی معاملات کے دوران صوبوں کی یکساں اہمیت اور نمائندگی کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ بنیادی مسائل کا حل نکالا جائے اور قومی سطح پر دوریوں اور تلخیوں سے دور رہا جائے۔
باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے باوجود چھوٹے صوبوں کی شکایات اور مطالبات اب بھی موجود ہیں اور سیاسی ، عوامی حلقوں میں یہ تاثر بہت عام ہے کہ پنجاب اور مرکز چھوٹے صوبوں کی حق تلفی کے رویے پر گامزن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری کمیشن کے تقریباً تمام ارکان کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جبکہ بعض دیگر وفاقی ادارے بھی پنجاب کے غلبے میں ہیں۔ایسے میں چھوٹے صوبوں کی شکایات ، تجاویز اور مطالبات کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی ضرورت ہوتی ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ مردم شماری کیلئے موجودہ ادارے میں خیبر پختونخواکے نمائندے کو شامل کیا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر مخصوص حالات کے تناظر میں مردم شماری کا انعقاد اور اُسے شفاف انداز میں کرانا اس عمل کی کامیابی کیلئے ناگزیر ہے کیونکہ درست اور شفاف مردم شماری ہی کی بنیاد پر صوبوں کے وسائل کا تعین اور ان کا استعمال ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اگر میرٹ اور غیر جانبداری کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور چھوٹے صوبوں کے خدشات کا ازالہ نہیں کیا گیا تو اس سے مشکلات اور شکایات میں اضافہ ہو گا اور اس کے نتیجے میں وفاق کی روح اور ساکھ متاثر ہوگی۔
اے این پی کے رہنما کے مطابق یہ بات باعث افسوس ہے کہ اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد کی راہ میں بعض حلقے رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور اس کو غیر موثر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حالانکہ یہ ترمیم قومی اتفاق رائے سے بدلتے حالات کو سامنے رکھ کر منظور کرائی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد سے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر تعلقات مشروط ہے۔