مورخہ : 4.4.2016 بروز پیر

برسر اقتدار پارٹیوں کی جانب سے کسٹم ایکٹ کے معاملے پر محض بیانات مسئلے کا حل نہیں ہے۔سردار حسین بابک
حکومتی پارٹیاں اور اُن کے منتخب نمائندے اس فیصلے پر مگر مچھ کے آنسو بہانے کی بجائے اپنی پوزیشن واضح کریں۔
حکومتی پارٹیوں اور اُن کے اتحادیوں کی مرضی اور مشاورت کے بغیر کسٹم ایکٹ کا اطلاق ممکن نہیں تھا۔
اگربرسر اقتدار پارٹیوں اور ان کے نمائندوں نے اپنی پوزیشن واضح نہیں کی تو عوام ان کے گھیراؤ پر مجبور ہوں گے۔

پشاور( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے کے حکومتی وزراء ، ارکان اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے نمائندے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے حکومتی فیصلے پر اپنی پوزیشن واضح کریں ورنہ عوام ان کا محاسبہ کرنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ ان کی مرضی اور مشاورت کے بغیر کسٹم ایکٹ کے اطلاق کا فیصلہ ممکن نہیں تھا۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق اُنہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ان جنگ زدہ اور مصیبت زدہ علاقوں کیلئے مراعاتی پیکج کی بجائے پہلے سے موجود سہولتیں واپس کر کے آمرانہ اور عوام دُشمن ادوار کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اُ نہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) ، جماعت اسلامی ، جے یو آئی ، پی ٹی آئی اور قومی وطن پارٹی یا تو حکومتوں کا حصہ ہیں یا شراکت دار ہیں۔ ایسے میں محض بیانات سے بات نہیں بنے گی اور اُن کو اپنی پوزیشن اور موقف واضح کردینا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ مگر مچھ کی طرح محض آنسو بہانے سے ان کے کردار اور غفلت کی تلافی ممکن نہیں ہے۔ یہ لوگ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور عوام ان کی جواب طلبی میں حق بجانب ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر ان پارٹیوں اور ان کے منتخب نمائندوں نے عملی مزاحمت اور جدوجہد کا مظاہرہ نہیں کیا تو عوام ان کا گھیراؤ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اپنے اعلان کے مطابق سول سوسائٹی ، تاجر تنظیموں ، وکلاء ، طلباء ، کنٹریکٹرز اور دیگر متعلقہ حلقوں کے ساتھ مل کر اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف بھرپور تحریک چلائے گی اور کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گی۔
اُنہوں نے کہا کہ منتخب حکومتی نمائندوں اور عہدیداران کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ دونوں حکومتوں کو یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کریں ورنہ ان کو شدید عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اُنہوں نے اے این پی کے تمام عہدیداروں اور کارکنوں کے علاوہ عوام سے اپیل کی کہ وہ مجوزہ تحریک اور احتجاج میں اپنی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ اس ظالمانہ اور یکطرفہ فیصلے کی مزاحمت کو یقینی بنایا جائے۔