مورخہ : 7.5.2016 بروز ہفتہ
برسر اقتدار ٹولے کو صوبے کے حقوق اور مفادات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اے این پی
ایک منظم سازش کے تحت 2013 کے الیکشن میں اے این پی کو مینڈیٹ سے محروم رکھا گیا۔
* عوام کو اسلام ، پاکستان اور تبدیلی کے نعروں سے مزید ورغلایا نہیں جا سکتا۔

بارہ مئی اے این پی کی جیت کا دن ہے۔ سردار حسین بابک ، ایمل ولی خان اور دیگر رہنماؤں کا گل آباد میں جلسہ سے خطاب

پشاور( پریس ریلیز ) اے این پی کے خاتمے یا کمزور کرنے والوں کی فہرست بہت لمبی ہے تاہم انگریزوں سے لیکر دہشتگردوں اور اب تبدیلی کے دعویداروں تک کوئی بھی قوت اس تحریک کو ختم یا کمزور نہ کر سکی۔ پارٹی کے خلاف 2013 کے الیکشن کے دوران جو سازش کی گئی تھی عوام اس کے نتائج بھگتنے کے بعد اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے حقوق اور مفادات کا تحفظ اے این پی ہی کر سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان ، خدائی خدمتگار سبز علی خان اور پی کے 8 کے پارٹی اُمیدوار اعجاز احمد سیماب نے گل آباد میں انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق سردار حسین بابک اور ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے این پی خدائی خدمتگار تحریک کا تاریخی تسلسل ہے۔ ماضی میں انگریزوں، آمروں اور دہشتگردوں سمیت بہت سی قوتوں نے پارٹی کو کمزور یا ختم کرنے کی جتنی بھی کوششیں کیں وہ ناکام ہوئیں بلکہ مخالفین خود ہی ختم ہوئے تاہم اے این پی زندہ رہی اور عوام کی ترجمانی کرتی رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں دہشتگردی کے نام پر اے این پی کا سیاسی محاصرہ کیا گیا اور ایک منظم سازش کے تحت اس کو مینڈیٹ سے محروم کر کے صوبے میں ایسے لوگوں کو برسر اقتدار لایا گیا جن کا پشتونوں اور صوبے کے مفادات اور حقوق سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف اے این پی کی قربانیاں سیاسی تاریخ کا روشن باب ہے جبکہ پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جو حقوق حاصل کیے اور جو ترقیاتی کام کیے ان کا اپنوں کے علاوہ مخالفین بھی اعتراف کر رہے ہیں اور عوام یہ جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی مزید مضبوط ہو کر میدان میں نکل آئی ہے اور پی کے 8 کے عوام اور ووٹرز 12 مئی کے الیکشن میں پارٹی کے حق میں ووٹ دیکر یہ ثابت کر دیں گے کہ اسلام ، پاکستان اور تبدیلی کے نام پر ان کو مزید دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ مستقبل اے این پی کا ہے اور پارٹی صوبے اور پشتونوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے اپنی تاریخی جدوجہد کے تسلسل کو آگے بڑھائے گی۔