مورخہ : 13.4.2016 بروز بدھ

بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف پشاور سمیت پورے صوبے، قبائلی علاقہ اور ایف آرز میں اے این پی کا احتجاج ، مظاہرے اور ریلیاں
ضلعی ہیڈکوارٹرز میں پارٹی کے ہزاروں کارکن اور عہدیداران حکومت کی مبینہ خاموشی اور پارٹی کارکنوں کی شہادتوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
پشاور پریس کلب کے سامنے مظاہرے کا انعقاد ، کارکنوں کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف نعرے بازی۔
کارکنوں کی شہادتوں کا سلسلہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ اب تک سینکڑوں ساتھیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔
اگر حکومتیں دہشتگردوں اور ٹارگٹ کلرز کی کارروائیوں پر مجرمانہ خاموشی پر گامزن رہی تو طاقت کے مراکز کے گھیراؤ پر مجبور ہوں گے۔
نواز شریف اور عمران خان کو کرسیاں گرانے اور بچانے کی سازشوں سے فرصت نہیں ہے۔ میاں افتخار حسین کا مظاہرے سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے عہدیداروں اور کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے مسلسل سلسلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بدھ کے روز پشاور سمیت صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز اور فاٹا کے مختلف علاقوں میں احتجاج کے طور پر مظاہرے کیے اور حکومت کو خبردار کیا کہ اگر بدامنی کی آڑ میں اے این پی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا اور اس کی روک تھام کو یقینی بناتے ہوئے قاتلوں اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کی گئیں تو پارٹی وزیر اعلیٰ ہاؤس ، گورنر ہاؤس اور پرائم منسٹر ہاؤس کے گھیراؤ سمیت کسی بھی اقدام اور مزاحمت سے گریز نہیں کرے گی۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق پارٹی کے ہزاروں کارکنوں نے مرکزی ، صوبائی اور ضلعی قائدین کی قیادت میں پشاور سمیت صوبے کے تقریباً تمام اضلاع اور فاٹا کے مختلف علاقوں میں اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی کے اعلان کے مطابق سوات میں پارٹی کے رہنما جمشید علی خان سمیت دیگر لاتعداد کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ ، بدامنی اور اس صورتحال پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے منفی رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور ریلیاں نکالیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پارٹی کے مرکزی اور صوبائی قائدین کے علاوہ اے این پی اور اس کی ذیلی تنظیموں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین نے حکومت ، دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہماری حکومت کے خاتمے کے بعد مختلف طبقوں کے نمائندہ افراد کے علاوہ اے این پی کے دودرجن سے زائد عہدیداروں اور کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں دہشتگردی کے سنگین مسئلے پر خوف ، مصلحت ، سودے بازی اور لاتعلقی پر مبنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور حکمرانوں نے صوبے اور فاٹا کے عوام کو دہشتگردوں ، بھتہ خوروں ، اغواء کاروں اور قاتلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب تک 800 سے زائد اے این پی کے عہدیداروں اور کارکنوں کو شہید کیا جا چکا ہے تاہم یہ سلسلہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور پارٹی عدم تشدد کی اپنی پالیسی کے اندر رہتے ہوئے مزاحمت پر مجبور ہو گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر بدامنی اور اس نوعیت کے حملوں کا راستہ نہیں روکا گیا اور حکومتیں خاموش تماشائی کاکردار ادا کرتی رہیں تو اے این پی دیگر اقدامات اور صف بندی کے علاوہ وزیر اعلیٰ ہاؤس ، گورنر ہاؤس اور پرائم منسٹر ہاؤس کا گھیراؤکرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری قربانیوں اور صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔ پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں سمیت صوبے کے تمام طبقوں اور عوام کو ہر صورت میں تحفظ فراہم کیا جائے اور دہشتگردوں کی مبینہ پشت پناہی کا رویہ ترک کر کے ان سے نمٹا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان کو کرسیاں بچانے اور گرانے کی کوششوں اور سازشوں سے فرصت نہیں ہے۔ اور پانامہ سکینڈل سے پیدا شدہ صورتحال اس کی تازہ مثال ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی حکومت کو صوبے کے مفادات ، امن کے قیام ، دہشتگردی کے خاتمے اور وسائل کے بروقت استعمال جیسے ایشوز کے معاملے پر برتری ناکامی سے دوچار ہیں۔ ستم یہ کہ وہ اپنے اصلاح کی بجائے دوسروں کے محاسبے پر نکل آئے ہیں حالانکہ ان کی صوبائی حکومت نے نا اہلی کی بدترین مثالیں قائم کی ہیں اور صوبے کے عوام ان کی حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں۔