2016 باچا خان یونیورسٹی کے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ فوری تسلیم کیا جائے۔ زاہد خان

باچا خان یونیورسٹی کے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ فوری تسلیم کیا جائے۔ زاہد خان

باچا خان یونیورسٹی کے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ فوری تسلیم کیا جائے۔ زاہد خان

MianIftikhar copy

مورخہ : 28.1.2016 بروز جمعرات

باچا خان یونیورسٹی کے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ فوری تسلیم کیا جائے۔ زاہد خان
تعلیمی اداروں کی بندش کی بجائے حکومت ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں، گھٹنے ٹیکنے سے بات نہیں بنے گی۔
حکومت تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائیاں کر کے بزدلی اور علم دُشمنی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
اے این پی نے اپنی حکومت میں علم دُشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اب بھی میدان میں کھڑی ہے۔
پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹرزاہد خان نے اپنے بیان میں تعلیمی اداروں کی بندش کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی نے اپنی حکومت میں علم دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اب بھی ان کے خلاف چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ اے این پی کی حکومت میں سکولوں کو تباہ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ۔ سول آرمڈ فورسز اور سیاسی قیادت کی قربانیاں دے کر تعلیمی درسگاہوں کو بند نہیں ہونے دیا گیا حکومت نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے تعلیمی اداروں کو بند کر کے دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں ۔اے پی ایس سکول، باچا خان یونیورسٹی کے شہید طلباء اور زخمیوں کے لواحقین کا جوڈیشل کمیشن قیام کا مطالبہ فوری تسلیم کیا جائے ۔حکومت تعلیمی اداروں کو بند کرکے بزدلی کا مظاہرہ کر رہی ہے علم دشمنوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے یاد رکھیں کہ دہشت گردوں کے خاتمے کی بجائے مقابلہ نہ کرنے والے عوام کی نظروں سے گر چکے ہیں ۔اور عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے ۔زاہد خان نے صوبائی حکومت خیبر پختوخوا کے تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو جرمانے کیلئے نوٹس بھجوانے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی حفاظت صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جسے پورا کیا جانا چاہیے نہ کہ قابل احترام اساتذہ اکرام کو نوٹس بھجوائے جائیں ۔

شیئر کریں