مورخہ : یکم مارچ 2016 بروز منگل

باچا خان یونیورسٹی کی سیکویرٹی کی ذمہ داری ادارے کی انتظامیہ پر ڈالنا قطعاً نامناسب ہے۔ میاں افتخار حسین
قائمقام گورنر نے مینڈیٹ سے بالا تر ہو کر متنازعہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کی منظوری دی ہے۔
حکومت اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔

پشاور(پ،ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیکیورٹی فراہم کرنا متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ موجودہ حکومت اپنی کوتاہیوں کے ادراک کی بجائے باچا خان یونیورسٹی کی سیکورٹی کی ذمہ داری اب بھی ادارے کی انتظامیہ پر ڈالنے کی روش پر گامزن ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے ان میڈیا رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا جن میں کہا گیا کہ قائمقام گورنر نے یونیورسٹی حملے سے متعلق قائم تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کی منظوری دی ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے حالانکہ دہشتگردی کے ماحول میں یونیورسٹی سمیت تمام ایسے اداروں کو سیکیورٹی فراہم کرنا متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ جس کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کی منظوری دی گئی ہے۔ وہ اس کا قیام اور اس کے ممبران کی نامزدگی بذات خود ایک متنازعہ معاملہ اور سوالیہ نشان ہے کیونکہ ارکان عملاً اس واقعے کے بلاواسطہ ذمہ واران میں آتے ہیں اور ان کی انتظامی حیثیت بذات خود قابل مواخدہ ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ قائمقام گورنر کا محدود مینڈیٹ بھی اخلاقی طور پر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اتنے بڑے سانحے کے بارے میں پہلے سے متنازعہ رپورٹ کی بنیاد پر کوئی اقدام اُٹھائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور چند ایک سرکاری افسران کے کہنے پر اس کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کوئی فیصلہ سنانا قطعاً مناسب نہیں ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے ہی سے یہ مطالبہ کر تے آ رہے ہیں کہ اس حملے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے گریز کیا جائے ورنہ دوسری صورت میں تعلیمی اداروں کا ماحول اور امن بری طرح متاثر ہو گا اور تعلیمی اداروں میں حکومت کی مداخلت بڑھنے کا آغاز ہوگا جس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔