مورخہ : یکم فروری 2016 بروز پیر

باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی انکوائری جانبداری اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ میاں افتخار حسین
دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے والے گارڈز کو مورود الزام ٹھہرانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ حکومت وائس چانسلرز کو زیر عتاب بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
سات یونیورسٹیاں وائس چانسلرز کے بغیر چل رہی ہیں۔ حکومتی رویے نے عملے کے علاوہ اساتذہ ، طلباء اور والدین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
حفاظتی میکنیزم کی بجائے تعلیمی اداروں میں باہر سے مداخلت کی جا رہی ہے۔ طلباء اور اساتذہ کے ہاتھوں میں قلم کی بجائے بندوقیں تھمائی گئی ہیں۔
* حکومت نے تعلیمی اداروں کو پولیس چوکیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ واقعے کی جوڈیشل انکوائری ناگزیر ہو چکی ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ انکوائری کی سفارشات نے اتنے بڑے سانحے پر ہونے والی بحث اور مزید سانحات سے بچنے کی درکار کوششوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے باچاخان یونیورسٹی کے لیے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے، کہ صوبائی حکومت اپنی ناکام اور ناقص سیکورٹی انتظام کا سارا ملبہ وائس چانسلر اور سیکورٹی عملے پرڈالنے کی کوشش کررہی ہے اور انکوائری کا دائرہ صرف یونیورسٹی تک محدود کرنے کی بجائے یونیورسٹی سے باہر بھی پھیلایا جائے کیوں کہ حملہ باہر سے ہوا تھا اس لیے تمام متعلقہ اداروں سے انکوائری ہونی چاہیے ۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ اپنے بیان میں میاں افتخارحسین نے کہا کہ انکوائری کمیٹی اپنی پوزیشن واضح کرے کہ یہ سب کچھ وہ کس طریقہ کار اور کس کے ایماء پر کررہی ہے،انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں واقعہ کی جوڈیشل انکوائری اب ضروری ہوگئی ہے،انہوں نے کہا کہ جن سیکورٹی گارڈ نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور انہیں گھنٹوں تک مصروف رکھا انکوائری کمیٹی کا انہیں ہی موردوالزام ٹھہرانا سمجھ سے بالاترہے، سیکورٹی گارڈ کی بہادری کا اعتراف نہ صرف عینی شاہدین بلکہ سیکورٹی اداروں نے بھی کیاہے،انہوں نے کہا یہ سب کچھ وائس چانسلر کے تبادلے کے لیے کیاجارہاہے،کیوں کہ خوش قسمتی سے وہ واقعہ میں بچ گئے ہیں اگر اے پی ایس کی پرنسپل شہید نہ ہوتیں تو کیا انہیں بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا، اُنہوں نے کہا کہ گارڈز اور عملے کے دیگر افراد کے علاوہ علاقے کے عوام نے جس طریقے سے عملی مزاحمت کی وہ قابل ستائش ہے۔اُنہوں نے کہا اے این پی کے دور حکومت میں تمام وائس چانسلرز میرٹ کی بنیاد پر تعینات کیے گئے تھے لہٰذا صوبائی حکومت ان وائس چانسلرز کو زیرعتاب کرنے کی مذموم کوشش کررہی ہے،انہوں نے کہا کہ اب بھی صوبے کی سات یونیورسٹیاں وائس چانسلرز کے بغیر چل رہی ہیں، صوبائی حکومت باچاخان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کی تحقیاتی کمیٹی سے بھی اپنے مراد سعید کیس جیسا کام لے رہی ہے جس کی انکوائری کے نتیجے میں ملزم کی بجائے وائس چانسلر کو مورود الزام ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ابھی تک یونیورسٹیوں کی حفاظت کے لیے کوئی میکنزم نہیں دیاہے،یونیورسٹیوں کی باہر سے حفاظت کے بجائے الٹا اس کے اندر مداخلت کررہی ہے تاکہ اپنے من پسندلوگوں کو نوازا جائے،انہوں نے کہا ہماری حکومت نے جو یونیورسٹی ایکٹ بنایا تھا اس میں موجودہ حکومت نے اپنے مفادات کے لیے اٹھائیس ترامیم کیں جب اس کے مفادات اس سے حاصل نہیں ہوپارہے تو اب دوبارہ ان ترامیم کو ختم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں کو پولیس چوکیوں میں تبدیل کردیا ہے استاتذہ اور طلبہ کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب کے بجائے کلاشنکوف اور بندوقیں تھما دی گئی ہیں۔ اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انکوائری کی سفارشات نے اتنے بڑے سانحے پر ہونے والی بحث اور مزید سانحات سے بچنے کی درکار کوششوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔حالانکہ اے پی ایس کی طرح ضرورت اس بات کی تھی کہ سانحے کے بعد قومی سطح پر سیاسی اور ریاستی ہم آہنگی اور صف بندی کے ذریعے مزید سانحات کا راستہ روکنے کے اسباب اور ذرائع ڈھونڈ لیے جاتے۔
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ جس طریقے سے اس سانحے کی انکوائری کی گئی ہے زمینی حقائق کے تناظر میں وہ جانبداری بلکہ انتقامی کارروائی پر مبنی دکھائی دے رہی ہے اور لگ یہ رہا ہے حکومت حسب روایت غفلت ، کوتاہی اور بدنیتی کے رویے پر عمل پیرا ہے جس کی مزاحمت کی جائیگی کیونکہ اس رویے کے نتائج نہ صرف یہ کہ اساتذہ ، طلباء اور والدین پر اثر انداز ہو رہے ہیں بلکہ خطرات سے دوچار دیگر تعلیمی ادارے بھی عدم تحفظ اور تشویش میں مبتلا ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک دہشت گردی کے خلاف ملکی سطح پر منظم منصوبہ بندی نہیں کی جاتی خارجہ اور داخلہ پالیسی تبدیل نہیں کی جاتی دہشت گردی پر قابو پانا ناممکن ہے۔