مورخہ 4 اپریل 2016ء بروز پیر

بارش متاثرین کے معمولات زندگی بحال کرنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، امیر حیدر خان ہوتی
صوبائی حکومت اپنی تمام توجہ متاثرین کی امداد پر مرکوز رکھے تا کہ ان کی داد رسی کی جا سکے
مصیبت کی اس گھڑی میں سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کی امداد کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں
مرکزی و صوبائی حکومتیں مل بیٹھ کر پورے خیبر پختونخوا میں تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگائیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے شدید بارشوں اور طغیانی سے پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع خصوصاً شانگلہ میں ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں ،انہوں نے مختلف واقعات میں جاں بحق افراد کی مغفرت کیلئے دعا کی اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہر ممکن امداد کی جائے ، اپنے ایک بیان میں امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکنا انسان کے بس کی بات نہیں تاہم اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی روک تھام کیلئے منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر پیشگی اقدامات کئے جاتے تو قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے بچایا جا سکتا تھا ، تاہم انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صورتحال کو سنجیدگی سے نہیں لیا جبکہ محکمہ موسمیات اس سلسلے میں پیشگوئی بھی کر چکا تھا ، انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات میں نقصانات کے حجم کو کم سے کم کرنے کیلئے پیش بندیاں کی جائیں ورنہ جانی و مالی نقصانات ہمارا مقدر بنتے رہیں گے ،انہوں نے کہا کہ شدید بارشوں نے جانی نقصان کے ساتھ ساتھ ذاتی و قومی املاک ، کھڑی فصلوں ، باغات اور کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے ، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرین کی فوری امداد کو یقینی بنایا جائے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی تمام توجہ متاثرین کو فوری امداد بہم پہنچانے پر مرکوز رکھے تا کہ غریب متاثرین کی داد رسی کی جا سکے ،انہوں نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کی امداد کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں،انہوں نے کہا کہ امدادی کاموں کیلئے حکومت کو مناسب فنڈز ریلیز کرنے چاہئیں ،کیونکہ عوام کے معمولات زندگی بحال کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے مرکزی و صوبائی حکومت سے کہا کہ وہ مل بیٹھ کر پورے خیبر پختونخوا میں تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگائیں اور دن رات متاثرین کی بحالی اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے سنجیدگی سے کام کریں