مورخہ : 29.2.2016 بروز پیر
باچا خان یونیونیورسٹی چارسدہ کے شہداء کے چہلم کے موقع پر یونیورسٹی کا دورہ

اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی جیسے سانحات سے بچنے کیلئے دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں۔ میاں افتخار حسین
افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاتعلقی پر مبنی رویہ اپنایا اور اس واقعے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ حکومتیں خصوصی پیکجز کا اعلان کر کے یونیورسٹی کے پیچھے کھڑی ہو جاتیں اور نیشنل ایکشن پلان پر پورا عمل کیا جاتا۔
پیکجز کے علاوہ شہداء کے یادگار بنائی جائیں ، ان کو ایوارڈز دئیے جائیں اور اے پی ایس کی طرح یونیورسٹی کو مثالی ادارہ بنایا جائے۔
شوال میں کپیٹن عمیر اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے جوانوں کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا۔

پشاور(پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے باچا خان یونیورسٹی کا دورہ کرنے کی زحمت بھی نہیں اُٹھائی جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا رویہ بھی لا تعلقی پر مبنی رہا جس سے یہ تاثر پھیلتا گیا کہ ارباب اختیار نہیں چاہتے کہ قوم اور اداروں کو دہشتگردی کے خلاف ایک صفحے پر لایا جائے۔
باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کے چہلم کے موقع پر یونیورسٹی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ عوام کی توقع تھی کہ اے پی ایس واقعے کی طرح باچا خان یونیورسٹی کے حملے کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس کی آڑ میں حملہ آوروں کو قومی سطح پر پیغام دیا جائیگا کہ قوم اور قیادت دہشتگردی کے معاملے پر ایک صفحے پر ہیں تاہم حکومتوں نے لا تعلقی پر مبنی رویہ اپنا کر یہ موقع ضائع کر دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ اے پی ایس واقعے اور نیشنل ایکشن پلان کے بعد اُمید پیدا ہو چکی تھی کہ دہشتگردوں کے خلاف پورے ملک میں بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں گی تاہم افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وزیر اعظم نے یونیورسٹی کا دورہ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جبکہ دونوں حکومتوں نے ہمارے مطالبے اور وقت کی ضرورت کے باوجود پیکج یا سہولیات دینے بھی گریز کا راستہ اپنایا ۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ عملی اقدامات کے ذریعے یونیورسٹی کو مثالی ادارہ بنایا جاتا اور حکومتیں اس کے پیچھے کھڑی ہو جاتیں۔ اُنہوں نے یاد دہانی کرائی کہ این ایف سی ایوارڈ کی رقم میں اربوں روپے دہشتگردی کے متاثرین کیلئے مختص ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے تھے کہ اس رقم سے یونیورسٹی کو مناسب ادائیگی کی جاتی اور خصوصی پیکج کا اعلان کیا جاتا ۔ حالانکہ صوبائی حکومت سے اربوں کا بجٹ ویسے ہی لیپس ہو رہا ہے۔ دوسری طرف یونیورسٹیز کے سربراہ کی حیثیت سے گورنر کا رویہ بھی لاتعلقی کا شکار رہا۔
اُنہوں نے کہا کہ اب جبکہ اعلان کے مطابق آپریشن ضرب غضب آخری مراحل میں ہیں ۔ حال ہی میں اُنہوں نے شوال میں کپیٹن عمیر اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے جوانوں کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیااور اس مقصد کیلئے بے شمار افسران ، فوجیوں ، پولیس ، ایف سی اور لیویز نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فورسز اور عوام کی قربانیوں کا پاس رکھتے ہوئے پورے ملک میں بلا امتیاز اور فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں تاکہ ملک کو مزید سانحات سے بچایا جا سکے اور دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کیلئے خصوصی پیکجز کا اعلان کیا جائے، شہداء کی یادگار تعمیر کی جائیں، ان کو ایوارڈز دئیے جائیں اور یونیورسٹی کی بندش کا ازالہ کرتے ہوئے طلباء و طالبات کی فیسیں یا تو معاف کی جائیں یا حکومت اُس کی ادائیگی کرے۔
قبل ازیں میاں افتخار حسین یونیورسٹی نے وی سی ڈاکٹر فضل رحیم مروت سے ملاقات کر کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کیلئے دُعا کی جبکہ اُنہوں نے اساتذہ اور طلباء کے ساتھ بھی کافی وقت گزارا۔