مورخہ 21اپریل2016ء بروز جمعرات

اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم
آرمی چیف نے اپنے ادارے سے احتساب کے عمل کا آغاز کر کے اچھی روایت کی بنیاد ڈال دی ہے۔
ملک کے دوسرے ریاستی اداروں کے سربراہان کو بھی آرمی چیف کی تقلید کر کے ادارہ جاتی احتساب کا آغاز کرنا چاہیے۔
دہشتگردی کی طرح کرپشن کے ناسور نے بھی پاکستان کی ساکھ ، ترقی اور استحکام کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے فوج میں احتسابی عمل کے عملی آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس فیصلے کی تائید اور ستائش کی ہے اور تمام ریاستی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کریں تاکہ ملک سے اس ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے آرمی چیف کے حالیہ اقدام کو غیر معمولی اور ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے کہ اپنے ادارے سے احتسابی عمل کا آغاز سے ایک اچھی روایت ہے اور اس کو جاری رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی طرح کرپشن نے بھی ملک کیلئے ایک ناسور کی شکل اختیار کی ہوئی ہے اور اس کے باعث نہ صرف یہ کہ ادارہ جاتی اور انتظامی ڈھانچے برباد ہو کر رہ گئے ہیں بلکہ ملک کی ترقی اور استحکام کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوتا آیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے حالیہ فیصلے سے جہاں ایک طرف کرپشن کی حوصلہ شکنی اور خاتمے کا راستہ ہموار ہو گا وہاں ملکی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ ، شہرت اور نیک نامی میں بھی بہتری آئے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ اس عمل کو مستقبل میں جاری رہنا چاہیے تاکہ عملی طور پر یہ پیغام دیا جائے کہ کوئی بھی مواخذے سے مبریٰ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دوسرے ریاستی اور حکومتی اداروں کے سربراہان کو بھی آرمی چیف کی تقلید کرتے ہوئے اپنے اپنے اداروں میں ایسے افراد کے احتساب کا آغاز کرنا چاہیے جو کہ کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔
اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا ہے کہ ملک کی نیک نامی ، ترقی اور استحکام کیلئے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی مصلحت یا تاخیر سے کام نہیں لینا چاہیے تاکہ اس ناسور سے پاکستان کو چھٹکارا دلایا جائے۔