2016 اے این پی کا نیشنل ایکشن پلان ، خارجہ پالیسی اور کاریڈور سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور رویوں پر اظہارعدم اعتماد

اے این پی کا نیشنل ایکشن پلان ، خارجہ پالیسی اور کاریڈور سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور رویوں پر اظہارعدم اعتماد

اے این پی کا نیشنل ایکشن پلان ، خارجہ پالیسی اور کاریڈور سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور رویوں پر اظہارعدم اعتماد

11.01.2016

مورخہ : 11.1.2016 بروز پیر

اے این پی کا نیشنل ایکشن پلان ، خارجہ پالیسی اور کاریڈور سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور رویوں پر اظہارعدم اعتماد
جنگ زدہ پشتونوں اور پسماندہ بلوچوں کو کوریڈورکے فوائد سے محروم رکھنے کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہوں گے ۔ میاں افتخار حسین
طالبان ، القاعدہ اور دیگر کے نتائج بھگتنے کے بعد داعش کی مصیبت سر پر منڈلا رہی ہے۔ خوف اور مصلحت سے نکل کر اس سے نمٹا جائے ۔حیدر خان ہوتی
دہشتگردی کے خلاف سینکڑوں کارکنوں کی قربانیوں کے باوجود ہمارے اعتراف کی بجائے ہمیں دیوار سے لگایا گیا۔سردار حسین بابک
میاں مشتاق شہید اور ساتھیوں کی برسی کے اجتماع سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی نے نیشنل ایکشن پلان ، خارجہ پالیسی اور چائنا پاک اکنامک کاریڈور جیسے بنیادی ایشوز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت کی پالیسی ساز اداروں نے فیڈریشن کے تقاضوں اور خطے کو درپیش خطرات کے تناظر میں اپنے رویے تبدیل نہیں کیے اور پسماندہ ، جنگ زدہ صوبوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا تو اس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہوں گے اور اس کی ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
باچا خان مرکز میں پارٹی کے شہید رہنما میاں مشتاق اور ان کے ساتھیوں کی برسی سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج ملک کے اندر جو عارضی امن قائم ہے وہ اے این پی کی قربانیوں اور جرأت مندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم نے مزاحمت نہ کی ہوتی تو صورتحال قطعاً مختلف اور دگردوں ہوتی۔ اُنہوں نے کہا یہ بات قابل افسوس ہے کہ چائنا پاک اکنامک کاریڈور کے فوائد سے ہمیں محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ یہ منصوبہ ہماری قربانیوں کے اعتراف اور احساس محرومی کے خاتمے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جنگ زدہ پشتونوں اور پسماندہ بلوچوں کو کاریڈور کے فوائد سے محروم رکھنے کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ احسن اقبال اپنی غلط بیانیوں اور جادوگری سے باز آجائیں اور وزیر اعظم مغربی روٹ کے بارے میں اے پی سی کے اپنے اعلان کو یقینی بنائیں۔ مغربی روٹ کے معاملے پر کسی قسم کے دباؤ اور مصلحت سے کام نہیں لیا جائیگا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ پشتونوں کا دہشتگردی کے ساتھ کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ اسلام آباد کی پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے جس کے اثرات ہم بھگتتے آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم ہی نے اپنے شہیدوں اور قربانیوں کے ذریعے سوات اور صوبے کے بعض دیگر علاقوں میں پاکستان کا جھنڈا لہرانے کا راستہ ہموار کیا ورنہ حالات قابو سے باہر ہو گئے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ امن کے قیام اور قربانیوں کا صلہ ہمیں اس شکل میں دیا گیا کہ 2013 کے الیکشن میں ہمارا گھیراؤ کیا گیا، ہم پر حملے کرائے گئے اور ہمیں ایک منصوبے کے تحت اسمبلیوں سے باہر رکھا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ طالبان ، القاعدہ اور متعدد دیگر کے نتائج اور اثرات بھگتنے کے بعد اب ہم پر داعش کی مصیبت سر پر منڈ لا رہی ہے جو کہ ان تمام سے زیادہ خطرناک اور خوفناک ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں نے خوف غلط بیانی اور مصلحت کا رویہ ترک کر کے بیڈ اور گڈ کے امتیاز کے بغیر نیشنل ایکشن پلان کے تحت پنجاب میں موثر کارروائیاں نہیں کیں اور اقدامات کا دائرہ صرف فاٹا یا خیبر پختونخوا تک محدود رکھا تو اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے اور داعش کا خطرہ بڑھ جائیگا۔
اُنہوں نے کہا کہ بعض قوتیں پھر سے افغانستان ، پاکستان اوربھارت کے حالیہ رابطوں اور تعلقات خراب کرنے اور کشیدگی کو ہوا دینے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی آمد ، آرمی چیف کا دورہ کابل اور نریندر مودی کی لاہور آمد کے بعد افغانستان میں حملوں کی تعداد میں یکدم اضافہ ہوا اور پٹھان کوٹ کا واقعہ بھی پیش آیا۔ اُنہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت کافی پیچیدہ ہیں اور عالمی تبدیلیاں بھی تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ ایسے میں ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
کاریڈور پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے واضح انداز میں کہا کہ مغربی روٹ کے بغیر دوسرے کسی آپشن پر بات کرنے کی نہ تو کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی ضرورت ۔ اگر فیڈریشن کو بچانا ہے تو وزیراعظم اے پی سی کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ اگر ہمارے بزرگوں کے وژن اور پالیسیوں پر عمل کیا جاتا تو ملک انتہا پسندی اور دہشتگردی کی بھینٹ نہیں چڑھتا اور ہزاروں افراد کی جانیں چلی نہیں جاتیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے امن کے قیام کیلئے درجنوں لیڈروں اور سینکڑوں کارکنوں کی شہادتوں کی قربانیاں دیں تاہم ہماری قربانیوں کے اعتراف کی بجائے ہمیں دیوار سے لگایا گیا اور کاریڈور کے معاملے پر بھی ہمیں زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور کے فوائد سے ہمیں محروم کرنے کا مقصد ہماری قربانیوں کا مذاق اُڑانا ہے ۔ تاہم یہ بات سب کو معلوم ہونی چاہیے کہ ہم نتائج کی پرواہ کیے بغیر امن کے مستقل قیام اور خطے کی ترقی ، خوشحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر شہید میاں مشتاق ، گل رحمان کاکا اور ندیم خان سمیت تمام شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کی گئی۔

شیئر کریں