مورخہ 28فروری 2016ء بروزاتوار
اے این پی پرنٹرز اور پبلشرز کے حقوق کی جنگ میں ان کے ساتھ ہے، سینیٹر ستارہ ایاز
سن 2013 ء میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کی وزارت بھی صوبوں کو منتقل کی گئی
نا اہل اور اٹھار ویں ترمیم سے بے خبر حکمرانوں نے پرنتنگ کا کام اوپن ٹینڈر کے ذریعے پنجاب کے حوالے کر دیا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے پرنٹرز اور پبلشرز کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل عرصہ سے اپنے جائز حقوق کیلئے مظاہرہ کرنے والوں کے مطالبات جلد تسلیم کئے جائیں،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان مین پارٹی کی سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ اے این پی پرنٹرز اور پبلشرز کے مطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے ،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے صوبائی حقوق کے حصول کیلئے طویل جدوجہد کی اور صوبائی خود مختاری کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں ،2013ء میں آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کی وزارت بھی صوبوں کو منتقل کی گئی ہر صوبہ اپنی ٹیکسٹ بک خود پرنٹ کرتا ہے اور کسی دوسرے صوبے کے لوگ دوسرے صوبے میں پرنٹنگ کا کام حاصل نہیں کر سکتے تاہم موجودہ نا اہل اور اٹھار ویں ترمیم سے بے خبر حکمرانوں نے پرنتنگ کا کام اوپن ٹینڈر کے ذریعے پنجاب کے حوالے کر دیا ہے جو خیبر پختونخوا کے پرنٹرز کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور پرنٹرز کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ،اور اس اقدام سے 100سے زائد پرنٹنگ یونٹس اب تک بند ہو چکے ہیں جس کے باعث ہزاروں افراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب کے پرنٹرز کو دیا جانے والا کام ان سے واپس لے کر پختونخوا کے پرنٹرز کو دیا جائے ، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دیگر صوبوں میں پرنٹنگ کے کام پر کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہاجبکہ خیبر پختونخوا کے پرنٹرز سے یہ ٹیکس وصول کرنا ان کے حقوق غصب کرنے کی سازش ہے ،انہوں نے کہا کہ ایک طرف یہ دعوے کئے جارہے ہیں کہ حکومت صوبے میں انقلاب برپا کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب صوبے میں بے روزگاری بڑھائی جا رہی ہے، ستارہ ایازنے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی قسمت کے فیصلے بنی گالہ میں کچن کیبنٹ کے لوگ کر رہے ہیں ، صوبائی وزیر اعلیٰ اور وزراء پرنٹرز کے مسائل سننے کے روادار نہیں جبکہ امن و امان کے حوالے سے صوبے کی صورتحال خراب ہے ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور جب لوگ احتجاجاًسڑکوں پر آتے ہیں تو حکمران چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں انہیں اتنی بھی توفیق نہیں کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کریں اور ان کی داد رسی کریں ، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے کاروباری طبقے کے ساتھ جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس میں غریب عوام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ، تاہم حکومت میں بیٹھے لوگ عوامی مسائل سے بے خبر ہیں