مورخہ : 8.4.2016 بروز جمعہ

اے این پی نے اپنے دور حکومت میں شدت پسندی کے خاتمے کے علاوہ صحت مند سرگرمیوں کو اپنی پالیسی کا محور بنایا۔ سردار حسین بابک
جنوبی اضلاع کے عوام کو ان کے بے پناہ وسائل کے باوجود ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

 ملاکنڈ ڈویژن میں ظالمانہ کسٹم ایکٹ کے خلاف اے این پی کی مزاحمت جاری رہے گی۔ ایف آر کوہاٹ میں تقریب سے خطاب

پشاور(پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پالیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود اپنے دور اقتدار میں امن کے قیام کی کامیاب کوششوں کے علاوہ صوبے میں تعلیم کے فروغ ، کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں پر غیر معمولی توجہ دی کیونکہ یہی وہ عوامل ہیں جن کے ذریعے معاشرے میں تشدد اور شدت پسندی کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔
ایف آر کوہاٹ میں باچا خان ٹورنامنٹ کی تقریب سے خطاب اور کارکنوں سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ معاشرے کو گھٹن اور خوف سے نکالنے کیلئے لازمی ہے کہ تعلیم عام کی جائے اور غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور یہی وجہ تھی کہ اے این پی نے اپنے دورحکومت میں دہشتگردوں کی کھلی مزاحمت کیساتھ ساتھ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور ثقافتی ، ادبی سرگرمیوں پر بھرپور توجہ دی۔ ریکارڈ تعلیمی ادارے قائم کیے ، سٹیڈیم تعمیر کیے اور صوبہ بھر میں صحت مند سرگرمیوں کیلئے کروڑوں اربوں روپے خرچ کیے۔
اُنہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے عوام کو قدرت نے بے پناہ وسائل اور صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ تاہم ان کو ان کے جائز حقوق اور ترقی کے مواقع سے محروم رکھا جا رہا ہے اور اسی رویے کا نتیجہ ہے کہ ان کے احساس محرومی اور مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ عوام یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے علاوہ دوسری کوئی پارٹی یا قوت نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے کے عوام پھر سے اے این پی کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور پارٹی ان کی توجہ اور اُمیدوں کا محور بنی ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حال ہی میں جب ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے ظالمانہ فیصلے کا اعلان کیا گیا تو اے این پی اس فیصلے کے خلاف میدان میں ڈٹ گئی اور اس وقت تک اپنی جدوجہد اور مزاحمت جاری رکھے گی جب تک یہاں کے لاکھوں عوام کے حقوق کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔