مورخہ : 20.4.2016 بروز منگل

اے این پی نے خیبر بینک کے معاملے پر صوبائی اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرا دی۔
صوبائی حکومت جماعت اسلامی کیساتھ قومی وطن پارٹی جیسا طریقہ واردات اپنا رہی ہے۔
صوبے کے تمام قیمتی اور پیداواری اثاثے اونے پونے بیچنے کیلئے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ سردار حسین بابک

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبائی اسمبلی میں خیبر بینک کے معاملے پر تحریک التواء جمع کرادی ۔ تحریک التواء میں موقف اپنایا گیا ہے کہ خیبر بینک انتظامیہ کی طرف سے متعلقہ وزیر کے خلاف اشتہا ر بازی اور جواباً وزیر موصوف کی طرف اشتہار جاری کرنا صوبے کے عوام کے ذہنوں میں مختلف سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ خیبر بینک صوبے کا واحد بینک ہے۔جس کی سالاانہ اربوں روپے آمدن اور صوبے کے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔ اُنہوں نے حکومت کی طرف سے معاملے کی تحقیقات کیلئے وزراء پر مشتمل کمیٹی کو مضحکہ خیز قرار دے دیا گیا اور اس کو حکومتی ٹوپی ڈرامہ قرار دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام قیمتی اور پیداواری اثاثے اونے پونے بیچنے کیلئے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ دریں اثناء اپنے ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے جو طریقہ واردات قومی وطن پارٹی کیساتھ اپنایا تھا وہی طریقہ جماعت اسلامی کیساتھ اپنایا جا رہا ہے۔ لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ جماعت اسلامی کو حکومت بہت عزیز ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبر بینک کے خلاف اس سازش کو بری طرح ناکام بنائیں گے۔ خیبر بینک کے خلاف اس سازش میں اتحادی جماعتیں برابر کے شریک ہیں۔ وزیرا عظم کے خلاف کرپشن کے الزامات اور تحقیقات کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کے سربراہی میں کمیشن بنانے کا مطالبہ کرنے والے خیبر بینک کے معاملے پر وزراء کی تحقیقاتی کمیٹی بنانا کھلا مذاق ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں صحت ، معدنیات ، سیاحت ، انرجی اینڈ پاور اور تمام مدات میں بڑے پیمانے پر کرپشن جاری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبر بینک کے ملازمین کی برطرفی آمرانہ سوچ اور پالیسی کی عکاس ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبر بینک کے برطرف ملازمین کی فوری طور پر بحالی اور انتقامی کارروائی اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔