مورخہ : 8.4.2016 بروز جمعہ

اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں آئینی ترامیم کے ذریعے صوبوں کو مثالی اختیارات دلوائے۔ امیر حیدر خان ہوتی
اٹھارویں اور اُنیسویں آئینی ترامیم کے ذریعے ملک کی تاریخ میں پہلی بار غیر معمولی اختیارات صوبوں کو ملنا شروع ہو گئے۔
ہم نے پانچ سال میں جتنے تعلیمی ادارے قائم کیے اُس کی مثال ملک کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔
سن 2013 کے حالات اور موجودہ صورت حال میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ مردان میں تقریب سے خطاب

پشاور(پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر ہوتی نے کہا ہے کہ صوبوں اور قومیتوں کے حقوق کی حصول اور فیڈریشن کے استحکام کیلئے باچا خان ، ولی خان اور اُن کے ساتھیوں کی بے مثال جدوجہد ملک کی سیاسی تاریخ کا درخشندہ باب ہے۔ اے این پی نے اپنی طویل جدوجہد کے علاوہ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں اپنے بزرگوں کے خوابوں کو عملی جامعہ پہنانے کیلئے عملی کردار ادا کیا۔ پارٹی نہ صرف یہ کہ صوبے کو نام کی شکل میں اس کی شناخت دی بلکہ اٹھارویں اور اُنیسویں ترامیم کے ذریعے صوبے کے حقوق اور مفادات کو آئینی تحفظ بھی فراہم کیا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے مردان میں باچا خان کی زندگی اور افکار پر مبنی ایک ڈرامے کے پریمیر کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق اُنہوں نے کہا کہ ہم نے نامساعد حالات کے باوجود باچا خان اور ولی خان کے متعین کردہ سیاسی اہداف کے حصول کیلئے نہ صرف یہ کہ اپنی جدوجہد جاری رکھی بلکہ ہم نے پانچ سالہ دور اقتدار میں امن کے قیام ، شدت پسندی کے خاتمے ، معیاری تعلیم کے فروغ اور صوبے کے وسائل میں بے پناہ اضافے جیسے اقدامات کو عملی شکل دی اور ملک کی تاریخ میں تعلیم کے فروغ کیلئے ریکارڈ تعلیمی ادارے قائم کیے۔ اُنہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے پانچ سالہ دور اقتدار میں جتنے تعلیمی ادارے قائم کیے اُن کی تعداد کی مثال صوبے کی 65 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ اُنہوں نے کہا کہ آج بدقسمتی سے صوبے پر ایسے مسلط ہیں جنہوں نے ہمارے تعمیری اور دور رس منصوبوں کو آگے بڑھانے کی بجائے سبوتاژ کیا اور اساتذہ اور طلباء کے ہاتھوں میں بندوق تھمانے کی روش اپنائی۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ 2013 کے حالات اور موجودہ صورتحال میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ صوبے کے عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے نعروں میں کوئی حقیقت نہیں تھی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام پھر سے اے این پی کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائیگا اور باچا خان کی تعلیمات کی روشنی میں پشتونوں کے سیاسی ، معاشی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ کو ہر قیمت پر ممکن بنایا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ خدائی خدمتگاروں ، سینئر پارٹی رہنماؤں اور نظریاتی کارکنوں کو پارٹی کے اندر انتہائی اہمیت حاصل ہے اور اُن کی مشاورت اور تجاویز کی روشنی میں اے این پی کی پالیسیوں کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا جائیگا تاکہ پشتون قوم کو درپیش سنگین چیلینجز اور مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکے اور ان کو ایک پر امن ترقی یافتہ اور خوشحال مستقبل دلوایا جا سکے۔ تقریب میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے علاوہ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک ، مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر ، سابق ایم این اے جمیلہ گیلانی ، ضلعی ناظم حمایت اللہ مایار ، سیکرٹری ثقافت شمس بونیری منتخب عوامی نمائندوں ، ادیبوں ، شاعروں اور فنکاروں کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔