مورخہ : 3.4.2016 بروز اتوار

اے این پی دور حکومت میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے تمام زرعی قرضے معاف کیے گئے تھے۔ سردار حسین بابک
ملاکنڈ ڈویژن کے عوام حکومتوں کا اس ظالمانہ اور آمرانہ فیصلوں پر خاموش نہیں ر ہیں گے۔
حالیہ بارشوں میں ہلاکتوں ، قومی اور ذاتی املاک کے نقصانات پر دُکھ اور افسوس کا اظہار ،نقصانات پر حکومت سے خصوصی پیکج کا مطالبہ
ملاکنڈڈویژن سے تعلق رکھنے والے حکومتی ارکان اسمبلی عوام کو پنی پوزیشن واضح کر دیں۔

پشاور( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومت نے مل کر ملاکنڈ ڈویژن کے مراعاتی پیکج کو واپس کر کے کسٹم ایکٹ کو نافذ کیا جس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائیگی۔ یہ بات اُنہوں نے موضع (غنڈ) صوادئی ضلع بونیر میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت ملاکنڈ ڈویژن کو مراعات اور حقوق دینے کے بجائے دی ہوئی مراعات کو واپس کر کے دہشتگردی اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی دور حکومت میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے تمام زرعی قرضے معاف کیے گئے تھے۔ انفراسٹرکچر کی بحالی اور ترقی کا ایک نیا دور شروع کیا گیا تھا۔ عوام کو معاشی ریلیف دیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے مرکزی اور صوبائی حکومت کے اس آمرانہ اقدام نے ڈویژن کے عوام کو بری طرح مایوس کر دیا ہے۔ اے این پی بہت جلد احتجاجی تحریک شروع کرے گی اور اس مقصد کیلئے ملاکنڈ ڈویژن کی تمام سیاسی پارٹیوں ، تاجر تنظیموں ، کنٹریکٹر ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کو بھی اس احتجاج میں شمولیت کی دعوت دے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام حکومتوں کا اس ظالمانہ اور آمرانہ فیصلوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔
اس موقع پر ضلعی صدر محمد کریم بابک ، سابق ناظم اعلیٰ حاجی رؤف خان نے بھی خطاب کیا۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ حالیہ بارشوں میں ہلاکتوں ، قومی اور ذاتی املاک کے نقصانات پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرین کی مالی امداد اور ہلاک شدگان کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کرے۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبائی اور مرکزی حکومت میں شامل جماعتیں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو وضاحت کریں کہ ان کی حکومتوں نے اتنا بڑا فیصلہ کیسے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں شامل ملاکنڈ ڈویژن کے حکومتی ارکان اپنی پوزیشن واضح کردیں۔