مورخہ : 29.2.2016 بروز پیر

کوہستانی عوام کے حقوق کی ضامن نئی فارسٹ پالیسی بنائی جائے
اے این پی تمام مظلوم اور محکوم طبقات کے حقوق کی جنگ لڑرہی ہے،سردارحسین بابک

پشاور(پ،ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کوہستانی عوام کے ساتھ جنگلات کی مد میں سوتیلی ماں جیسے سلوک سے باز آئے اور انہیں جلد از جلد مالکانہ حقوق اور دیگر علاقوں کی طرح کوہستانی عوام کو بھی 80 فیصد رائلٹی دی جائے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچاخان مرکز پشاورمیں دیر کوہستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ایک نمائندہ وفد سے ملاقات میں کیا،اس موقع پر وفد کے ارکان نے سردار حسین بابک کو اپنے مطالبات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جنگلات کی مد میں مالکان کو ساٹھ فیصد حصہ دیا جا رہا ہے جو انتہائی زیادتی کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مالکان کو لکڑی کی نیلامی کا اسی فیصد حصہ دیا جائے جبکہ ساتھ ہی اُنہیں لکڑی ملک کی تمام کھلی مارکیٹوں میں فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔ وفد کے ارکان نے کہا کہ حکومت رائلٹی کا جو بیس فیصد حصہ وصول کرتی ہے وہ علاقے میں ترقیاتی کاموں پر صرف نہیں کیا جا رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ گیس ، بجلی آبنوشی سکیمیں ، سرکیں ، صحت اور تعلیم کے شعبے میں ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی اشد ضرورت ہے اور حکومت کو چاہیے کہ جنگلات کی نیلامی سے حاصل ہونے والی بیس فیصد آمدن ان علاقوں کی ترقی پر خرچ کرے۔ اُنہوں نے محکمہ فارسٹ میں اصلاحات اور غیر قانونی سمگلنگ کے روکنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ فارسٹ پالیسی 2002 کو ختم کر کے نئی اور موزوں پالیسی وضع کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقہ ہے ۔ لہٰذا تمام قدرتی وسائل پر لاگو ٹیکس کو فوری طور پر خرچ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ جنگلات کے حامل تمام علاقہ جات کیلئے ملک کے تمام فارسٹ اور میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کیلئے کوٹہ مقرر کیا جائے۔
اس موقع پر سردار حسین بابک نے وفد کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ اے این پی ملک کے تمام محکوم اور مظلوم طبقات کے حقوق کی نمائندہ جماعت ہے،اور کسی بھی طاقت کو صوبے کے عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،انہوں نے کہا کہ جنگلات کی آمدن میں کوہستانی عوام کے ساتھ صوبائی حکومت کارویہ اور سلوک قابل افسوس ہے،کیوں کہ پوری دنیا کا یہ ایک مسلمہ قانون ہے کہ قدرتی وسائل پر سب سے زیادہ حق وہاں کے مقامی افرادکا ہوتاہے، جس کے لیے ہماری جماعت نے تاریخ کے ہردور میں نہ صرف بھرپور آواز اٹھائی ہے بلکہ صوبائی خود محتاری کے لیے عملی اور کامیاب جدوجہد بھی کی ہے ، انہوں نے کہا کہ تبدیلی اور انصاف کے بلند وبانگ دعوے کرنے والی صوبائی حکومت کوہستان کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی ختم اور وہاں کے عوام کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ان سے اپنے وسائل پر اپنا انسانی حق بھی چھیننے کی کوشش کررہی ہے، اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کوہستانی عوام کو اپنے جائز حقوق دلانے میں ہرممکن کوشش کرے گی،انہوں نے کہا کہ پرانی فارسٹ پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور ایک ایسی ٹھوس پالیسی بنائی جائے جو کوہستانی عوام کے حقوق کی ضامن اور نمائندہ پالیسی ہو۔