مورخہ : 2.3.2016 بروز بدھ

اے این پی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ہر دور میں مضبوط جمہوری تنظیمی ڈھانچے کی حامل جماعت رہی ہے۔ میاں افتخار حسین
آئینی طور پر قیادت کا انتخاب کلی طور پر کارکنوں اور بنیادی سطح کی تنظیموں کے دائرہ اختیار میں ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں کے حالات کے دوران اہم لیڈروں سمیت 850 کارکنوں اور عہدیداروں کو شہید کیا گیا۔
سن2013 کے الیکشن کے دوران ہمارا محاصرہ کیا گیا جس کے باعث کارکنوں ، لیڈروں اور اُمیدواروں کیلئے انتخابی مہم چلانا بھی ممکن نہیں رہا ۔ پلڈاٹ کی گول میز کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچے کی حامل جماعت ہے جس کی تنظیمی بنیاد کارکنوں کی رائے پر مبنی جمہوری طریقہ کار پر قائم ہے اور قیادت کے انتخاب کا اختیار کلی طور پر کارکنوں اور نچلی تنظیموں کے پاس ہے۔ پارٹی اپنے قیام اور اس سے قبل کئی دھائیوں تک حکومتوں کے منفی رویوں ، انتہا پسندوں کے حملوں اور دیگر رکاوٹوں کا شکار رہی تاہم اس کے باوجود اس کو پاکستان کی سیاسی قوتوں کی فہرست اے میں جمہوریت پسند پارٹی کا مقام حاصل ہے۔
اسلام آباد میں پلڈاٹ کے زیر اہتمام پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت کے موضوع پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے اے این پی سے متعلق اس ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کی قیادت کا اختیار ایک مستقل طریقہ کار کے مطابق مکمل طور پر کارکنوں اور نچلی تنظیموں کے اختیار میں ہے اور اس پر اس کو پارٹی کے اندر آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک کی مجموعی صورتحال اور آمرانہ تاریخ سیاسی جماعتوں اور ان کے رویوں پر بھی اثر انداز ہوتی آئی ہے ۔ اس کے باوجود اے این پی تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اے این پی ایک مضبوط جمہوری اور تنظیمی ڈھانچے کی حامل جماعت رہی ہے۔ اس پارٹی پر ملکی تاریخ میں کئی بار پابندیاں لگائی گئیں جبکہ اعلیٰ ترین قیادت کو ریکارڈ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم ہر دور میں زیر عتاب رہے ہیں اور خارجی عوامل بھی پارٹی پر اثرانداز ہوتے رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران دہشتگردی کے خلاف مزاحمت پر اے این پی کے کئی لیڈروں ، ممبران اسمبلی سمیت 850 کارکنوں اور عہدیداروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اے این پی شدید حملوں اور خطروں کی زد میں رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ 2013 کے الیکشن مہم کے دوران ہمارا محاصرہ کیا گیا ۔ کارکنوں ، عہدیداروں اور اُمیدواروں کو مہم چلانے نہیں دیا گیا اور اس کا نتیجہ یہی نکلا کہ بعض دیگر عوامل کے علاوہ اس مشکل نے بھی پارٹی کے نتائج کو بری طرح متاثر کر کے رکھ دیا۔
اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کی تاریخ بتائی ہے کہ مرکزی صدارت سمیت اہم ترین عہدوں پر عام ورکر فائز رہے ہیں اور اس ضمن میں ان سمیت سابق مرکزی صدر مرحوم اجمل خٹک اور متعدد دیگر لیڈروں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں جو کہ مختلف ادوار میں پارٹی کے عہدوں پر فائز رہے۔
اُنہوں نے کہا کہ خطے کی سیاسی ثقافت کے پس منظر میں پارٹیوں پر اہم شخصیات کی چھاپ چلتی آ رہی ہے اور اس کے ٹھوس اسباب ہیں اس لیے پارٹیوں کے اندر شخصت پرستی کے فیکٹر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باجود اے این پی اس بات کی حامی ہے کہ پارٹیوں کے اندر جمہوریت سے جمہوری اور سیاسی نظام کے مزید استحکام کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں اس لیے پارٹیاں اس ضرورت پر خصوصی توجہ دیں۔