مورخہ : 31.3.2016 بروز جمعرات

اے این پی بلوچستان کے بزرگ رہنما سائیں انور خان شیرانی کی بلاجواز گرفتاری پر پارٹی کا شدید رد عمل۔
کسی کو بھی پر امن سیاسی سرگرمیوں یا احتجاج سے بزور طاقت محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
سائیں انور شیرانی کی بلا جواز گرفتاری نے صوبائی حکومت کے غیر جمہوری رویے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بزرگ رہنما کو فوراً رہا کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ گرفتاری پر زاہد خان اور اصغر خان اچکزئی کا بیان

پشاور ( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان اور اے این پی صوبہ بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے ژوب میں پارٹی کے سینئر رہنما اور صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبر سائیں انور شیرانی کی بے جا گرفتاری پر تشویش اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے رویے کی مذمت اور گرفتار رہنما کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ مذمتی بیان میں دونوں رہنماؤں نے سائیں انور شیرانی کی ژوب میں پولیس کے ہاتھوں بلاجواز گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پر امن احتجاج کے نتیجے میں نکالے گئے جلوس کی پاداش میں دیگر کارکنوں کے علاوہ سائیں انور خان شیرانی جیسے بزرگ رہنما کی گرفتاری نے صوبائی حکومت کے غیر جمہوری رویے کو بے نقاب کر دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس اور شرم کی بات ہے کہ یہ اقدام ایک ایسی صوبائی حکومت کی جانب سے اُٹھایا گیا جس کے سربراہان قوم پرستی اور جمہوریت پسندی کا دعویٰ کرتے آ رہے ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ سیاسی طریقے سے پر امن احتجاج کرنا یا کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی کو بھی حکومت کی طاقت کے ذریعے اس جمہوری حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ سائیں انور شیرانی کا شمار پشتون قوم پرستوں کی اس نسل میں ہوتا آیا ہے جنہوں نے انتہائی جبر اور تشدد کے سیاسی ماحول میں اپنی مٹی اور عوام کے حقوق کی آواز اُٹھائی اور اس جدوجہد میں بے مثال قربانیاں دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے اتنے سینئر رہنما کو گرفتار کرنا اور ان کو مسلسل پابند سلاسل رکھنا بہت سے سوالات کو جنم دینے کا سبب بنا ہوا ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے سائیں انور خان شیرانی کی فوری رہائی کے علاوہ ان حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اتنے بزرگ رہنما پر ہاتھ ڈالا اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک روا رکھا۔