مورخہ : 3.2.2016 بروز بدھ
ایک سازش کے تحت تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو تباہ اور بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایمل ولی خان
دہشتگرد کارروائیوں کا راستہ روکنا یا ان سے نمٹنا فورسز کا کام ہے۔ گارڈز کی جرأت کو داد دینے کی بجائے ان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
عبدالولی خان یونیورسٹی کے وی سی کو نیب کے ذریعے ہراساں کیا گیا اب باچا خان یونیورسٹی کے وی سی کے خلاف منفی رویہ اپنایا گیا۔
کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائیگی کہ دوسروں کی نا اہلی کا ملبہ تعلیمی اداروں کے سربراہان یا سٹاف پر ڈال دیا جائے۔
پشاور(پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ سے متعلق حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کلی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد کارروائیوں کا راستہ روکنا یونیورسٹی انتظامیہ کا کام نہیں ہے۔ یہ کام منظم فورسز کا ہوتا ہے۔ حکومتی رپورٹ اور رویے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حکمران اس سانحے کا ملبہ یونیورسٹی انتظامیہ پر ڈالنا چاہتے ہیں تاہم اس رویے کی مزاحمت کی جائیگی اور کسی کو یہ اجازت نہیں دی جائیگی کہ تعلیمی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ مذمتی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ اس نوعیت کی دہشتگرد کارروائیوں کا راستہ روکے۔ باچا خان یونیورسٹی کے گارڈز نے تو جرأت اور بہادری کی مثال قائم کر کے حملہ آوروں کو فورسز کے آنے تک روکے رکھا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کو اس بہادری کی داد دی جاتی تاہم نام و نہاد تحقیقاتی کمیٹی نے انہی کو ذمہ دار قرار دیکر بے حسی اور بے قدری کی انتہا کر دی۔ اُنہوں نے کہا کہ فوج نے اس حملے کے دوران دوسرے ذرائع کے علاوہ ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیا۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ ایسے حملوں سے نمٹنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ لگ یہ رہا ہے کہ ایک سازش کے تحت یونیورسٹیوں کو تباہ اور بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل عبدالولی خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو نیب کے ذریعے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ اب باچا خان یونیورسٹی کے وی سی کے خلاف یکطرفہ اور بے بنیاد رویہ اختیار کیا گیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم تحقیقاتی رپورٹ کو کلی طور پر مسترد کرتے ہیں اور حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ اپنی نا اہلی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کا رویہ ترک کرے ورنہ اے این پی اس رویے کی کھل کر مخالفت اور مزاحمت کرے گی۔