مورخہ : 11.2.2016 بروز جمعرات

اکنامک کاریڈور کے منصوبے کے ذریعے گلگت بلتستان کے معاشی اور اقتصادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ میاں افتخار حسین
اتنے اہم علاقے کو منصوبے کا حصہ نہ بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ حکمران امتیازی سلوک کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
گلگت بلتستان کی پسماندگی کو سامنے رکھتے ہوئے اُسے فری ٹیکس زون قرار دیا جائے۔
اے این پی گلگت بلتستان کے وفد سے بات چیت۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ چائنا پاک اکنامک کاریڈور کے منصوبے میں صوبہ پختونخوا ’ بلوچستان اور فاٹا کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے معاشی اور اقتصادی مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنانا چاہیے کیونکہ یہ علاقے کئی دھائیوں سے پسماندگی کا شکار ہیں اور کاریڈور کے ذریعے ان کی پسماندگی اور محرومی دور کرنا یہاں کے عوام کا بنیادی حق اور مطالبہ ہے۔
باچا خان مرکز میں اے این پی گلگت بلتستان کے چیف آرگنائزر شیر خان کی زیر قیادت ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور سے متعلق دو صوبوں کی شکایات کے بعد اب گلگت بلتستان کے عوام کی رائے معلوم کرنے سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ اس گیٹ وے علاقے کے مفادات کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے اور اس پسماندہ مگر اہم جغرافیائی خطے اور اہم علاقے کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی جا رہی ہے اور اس رویے کے باعث اس علاقے کے عوام میں شدید تشویش اور اشتعال پایا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا عجیب بات یہ ہے کہ گیٹ وے سٹیٹس کے حامل اس علاقے کو اگر کاریڈور سے مستفید ہونے نہیں دیا جارہا تو سوال یہ ہے کہ کاریڈور کے قیام کا آخر مقصد اور فائدہ کیا ہے ؟
اُنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبے کی بنیاد پر اس علاقے کو اکنامک کاریڈور کا حصہ بنانا چاہیے اور عوام کی شکایات کا عملی اقدامات کی صورت میں ازالہ کیا جائے۔ اُنہوں نے وفد کی تجاویز کی روشنی میں مطالبہ کیا کہ فی الفور اس علاقے میں دو اکنامک زونز کے قیام اور ان کے لیے اراضی کی فراہمی اور جگہ کا تعین یقینی بنایا جائے اور اس کے ساتھ گلگت بلتستان کی پسماندگی کو سامنے رکھتے ہوئے اُسے ٹیکس فری زون قرار دیا جائے تاکہ عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے اور عملی طور پر یہ پیغام دیا جائے کہ کاریڈور کے معاملے پر تمام یونٹوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائیگا۔
اُنہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ اے این پی گلگت بلتستان کے دیگر ایشوز کی طرح اکنامک کاریڈور کے معاملے پربھی یہاں کے عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور اس مقصد کیلئے ہر فورم پر آواز اُٹھائی جائے گی۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ الگ یونٹ اور حیثیت قرار دینے کے بعد گلگت بلتستان کو الگ صوبے کا مقام دیا جائے اور اگر فی الحال یہ ممکن نہ ہو تو اس علاقے کو صوبے کے برابر اختیارات اور مراعات دئیے جائیں۔a