مورخہ : 7.3.2016 بروز پیر

اپنے قابل فخر اسلاف کی تعلیمات اور نظریات کی بنیاد پر امن کے قیام اور ترقی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اے این پی
پارٹی نے خطے کی نمائندگی کرتے ہوئے انتہا پسندی کی مزاحمت ، تعلیم کے فروغ اور اجتماعی ترقی کیلئے باجرأت اور مثالی کردار ادا کیا۔ حیدر خان ہوتی
عوام اور تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی فراہم کرنا بہر صورت حکومت کی ذمہ داری ہے، عمران خان اور پرویز خٹک نمک پاشی کی اپنی روش ترک کریں۔
ایک منصوبے کے تحت 2013 کے دوران ہمیں دیوار سے لگایا گیا اور میندیٹ کسی اور کی جھولی میں ڈالا گیا۔ سردار حسین بابک
اپنے سیاسی اور عوامی مفادات کیلئے کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لایا جائیگا۔سابق گورنر اور پارٹی کے قائد ارباب سکندر خان خلیل کی 34 ویں برسی کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے قائدین کا خطاب

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی قیادت نے ارباب سکندر خان خلیل اور دیگر خدائی خدمتگاروں کی جدوجہد ، خدمات اور تعلیمات کو پارٹی کیلئے مشعل راہ سمجھتے ہوئے اپنا یہ عزم پھر سے دہرایا ہے کہ ان عظیم شخصیات کے خوابوں کی تعبیر کیلئے کسی قسم کی رکاوٹ ، سازش ، مصلحت یا دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائیگا اور خطے میں امن کے قیام ، تعلیم کے فروغ اور سیاسی ، اقتصادی حقوق کے تحفظ کیلئے سیاسی جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔
ان خیالات کا اظہار پارٹی کے قائدین امیر حیدر خان ہوتی ، سردار حسین بابک ، لطیف آفریدی ایڈوکیٹ اور ملک نسیم خان نے تہکال میں سابق گورنر اور خدائی خدمتگار ارباب سکندر خان خلیل شہید کی 34 ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کے علاوہ دیگر رہنما بشیر خان مٹہ ، خوشدل خان ایڈوکیٹ ، شگفتہ ملک ، جمیلہ گیلانی ، رسول خان سالار ، ملک مصطفی اور خورشید خٹک بھی موجود تھے۔
برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی باچا خان ، ولی خان اور اُن کے ساتھیوں کی تعلیمات اور جدوجہد کی وارث جماعت ہے۔ ہم نہ صرف یہ کہ اپنے اسلاف پر فخر کرتے ہیں بلکہ ان کی تعلیمات اور طرز سیاست اور جدوجہد کی روشنی میں اپنی سیاست آگے بڑھانے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ارباب سکندر خان خلیل ایک جہاندیدہ اور زیرک سیاسی رہنما تھے اور ان کے اُصول ہمارے لیے متعین کیے ہیں ان کے حصول کیلئے کسی قسم کی مصلحت اور رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لایا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ انہی تعلیمات کی روشنی میں ہم نے ہر دور میں دہشتگردی کی مخالفت اور امن کی وکالت کا کیس بہت واضح انداز میں لڑا اور مدعی بن کر میدان میں کھڑے رہے۔ اے این پی نے اس جدوجہد میں جس سطح اور نوعیت کی قربانیاں دی ہیں، ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ہم اپنے اس کردار کو آگے بھی بڑھاتے رہیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سمیت بہت سی سیاسی قوتیں انتہا پسندی کے معاملے پر خوف ، مصلحت اور ابہام کی شکار ہیں۔ اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ تعلیمی اداروں کی حفاظت یا سیکیورٹی کی ذمہ داری اساتذہ ، طلباء اور والدین پر ڈال دی گئی ہے حالانکہ عوام سمیت ہر ادارے کو سیکیورٹی فراہم کرنا کلی طور پر حکومت اور اس کے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اُنہوں نے عمران خان اور پرویز خٹک کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی حکومتی ذمہ داریاں دوسروں پر ڈالنے کی روش ترک کرے اور باچا خان یونیورسٹی سمیت دیگر اداروں کے سربراہان ، عوام کے زخموں پر نمک پاشی سے گریز کریں۔
اُنہوں نے کہا کہ صوبے کو تجربہ گاہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ نواز شریف اور عمران خان کو صوبے یا پاکستان کی بجائے پنجاب کے ووٹ کی فکر لگی ہوئی ہے کیونکہ اس ووٹ کیساتھ وزارت عظمیٰ کا حصول وابستہ ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی نااہلی کے باعث تین سال یہ کہہ کر ضائع کر دئیے کہ وہ سسٹم ٹھیک کر رہے ہیں۔ حالانکہ دوسری ناکامیوں کے علاوہ ان کے وضع کردہ بلدیاتی سسٹم کا حال یہ ہے کہ بلدیاتی نمائندے اپنے دفاتر اختیارات اور فنڈز کیلئے مسلسل احتجاج پر مجبور ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آنے والا وقت اے این پی کا ہے۔ اب کے بار ٹکٹ کی تقسیم سمیت تمام فیصلے کارکنوں اور تنظیموں کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔
برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ ارباب سکندر خان خلیل جیسے رہنما ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اور ان کی جدوجہد ہر دور میں ہمارے لیے مستقبل کی راہیں متعین کرتی آ رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے پانچ سالہ دور حکومت میں امن کے قیام اور صوبے کی ترقی کیلئے مثالی کردار ادا کیا تاہم ایک منصوبے کے تحت ہمیں دیوار سے لگایا گیا۔ 2016 کے الیکشن میں نہ صرف یہ کہ ہمارا گھیراؤ کیا گیا بلکہ ہمارا مینڈیٹ کسی اور جھولی میں ڈال دیا گیا اس کے باوجود اے این پی میدان میں ڈٹی رہی اور اب بھی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنا فعال اور با جرأت کردار ادا کر رہی ہے۔
قبل ازیں مقررین نے سانحہ شب قدر کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دُعا کی گئی ۔ اس موقع پر ریاستی اداروں ،حکمرانوں اور سیاستدانوں سمیت سب پر زور دیا گیا کہ وہ دہشتگردی کے معاملے پر ایک صفحے پر آجائیں تاکہ اس ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے۔