Mushaira on Ghani Khan

مورخہ 15مارچ 2016ء بروز منگل
اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلے بغیرکوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، میاں افتخار حسین
عبدالغنی خان کی زندگی کھلی کتاب کی مانند تھی اور ان کا نام رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا
غنی خان کوقوم پرست شعراء میں اہم مقام حاصل تھا، باچا خان مرکز میں برسی کی تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کوئی بھی قوم اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں پشتو شاعر اور پختون رسالہ کے چیف ایڈیٹر رحمت شاہ سائل کی زیر صدارت پشتو زبان کے معروف شاعر ، ادیب محقق ،فلسفی اور قوم پرست سیاستدان عبدالغنی خان کی20ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی کثیر تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی،جبکہ غنی خان کے پوتے مشال خان اس موقع پر مہمان خصوصی تھے ، روخان یوسفزئی نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے اور اپنے کلام کے ذریعے عبدالغنی خان کو خراج عقیدت پیش کیا، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ غنی خان ایک شاعر ،ادیب فلسفی اور اپنے وقت کے ایک بہترین سیاستدان بھی تھے،اور ان کا نام رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا،انہوں نے کہا کہ خان عبدالولی خان نے سوچ اور فکر کی سیاست کو پروان چڑھایا جبکہ غنی خان نے شاعری کے ذریعے لوگوں میں شعور اجاگر کیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ غنی خان ہمارے سیاسی استاد تھے اور ہم نے ان بہت کچھ سیکھا ان کوقوم پرست شعراء میں اہم مقام حاصل تھا ،انہوں نے کہا آج کے دور میں لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ انہیں اپنا مقام حاصل کرنے کیلئے غنی خان کو مشعل راہ بنانا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ غنی خان مرحوم کی سیاست سے غریبوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ اگر وہ اپنے کاز میں مخلص ہوں اور محنت کریں تو انسان اُن کی طرح مرنے کے بعدبھی دلوں میں زندہ رہتا ہے، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عبدالغنی خان کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند تھی،اس موقع پر صوبہ بھر سے آئے ہوئے شعراء خصوصاً ،نورالامین یوسفزئی ،شاہ مراد خان ،بہار وزیر، سمسور بونیری ،امیر رزاق ساحل ،ہارون رشید خٹک ، ماصل خان آتش، اجل خان اور شمس بونیری نے اپنا کلام پیش کیا اور عبدالغنی خان کو اپنے کلام کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا ۔