مورخہ : 26.2.2016 بروز جمعہ
وزیر اعلیٰ اور اُن کے اتحادی وضاحت کریں کہ وہ بجلی منافع کے پونے چارسو ارب کی بجائے ستر ارب پر کیسے راضی ہوئے۔ حاجی محمد عدیل
یہ فیصلہ نہ تو اے جی این قاضی فارمولا کے تحت ہے اور نہ ہی دیگر فیصلوں کے تناظر میں اس کی گنجائش موجود ہے۔
حالیہ اجلاس کے دوران بجلی کے منافع کے علاوہ چشمہ رایٹ بنک کنال اور گیس سے متعلق اُمور پر بھی خاموشی اختیار کی گئی۔
مصلحت اور لا علمی کے شکار وزیر اعلیٰ اکنامک کاریڈور پر خاموشی کی طرح اپنے اس فیصلے پر بھی پچھتائے دکھائی دیں گے۔

پشاور(پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزانہ حاجی محمد عدیل نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک حسب سابق مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اپنی لاعلمی اور کمزور موقف کے باعث ایسے فیصلے کرتے آئے ہیں جن سے صوبے کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے اور ان فیصلوں پر وزیر اعلیٰ چند روز بعد خود پشیمانی کا اظہار کرتے دکھائی دینگے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں حاجی محمد عدیل نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ وزیر اعلیٰ اور ان کے اتحادی بجلی کے خالص منافع کی مد میں پونے چار سو ارب کی بجائے ستر ارب روپے پر کیسے راضی ہو گئے ہیں۔ حالانکہ قاضی فارمولے اور بعض دیگر ترامیم کے بعد صوبے کا حق ستر ارب سے کئی گنا زیادہ بنتا ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کیاکہ وزیرا علی عوام اور اسمبلی کے سامنے وضاحت کرے کہ اُنہوں نے یہ فیصلہ کس فارمولے کی بنیاد پر کیا ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ ستر ارب سے زیادہ کا منافع تو ان بقایا جات کا ہے جو کہ وفاق 2005 کے دوران 110 ارب روپے کی شکل میں مان کر ادا کرتا آ رہا تھا۔ اور ہماری حکومت نے اس کی وصولی کو یقینی بنایا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ متعلقہ ٹریبونل کے ایک فیصلے کے مطابق وفاق اس بات کا پابند ہے کہ وہ خالص منافع کی لیٹ ادائیگی کی صورت میں مجموعی رقم کا دس فیصد بھی صوبے کو ادا کرے۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ حالیہ اجلاس کے دوران بجلی کے خالص منافع کے علاوہ مقامی گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کے ایشو ، چشمہ رایٹ بنک کنال ، منڈا ڈیم اور بعض دیگر ان منصوبوں کا دفاع کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں جن کے ساتھ صوبے کی معیشت اور ترقی جڑی ہوئی ہے اور وزیراعلیٰ کو مزید تاخیر سے کام لینے کی بجائے ان منصوبوں کی فوری تکمیل اور وسائل کے اختیار پر واضح موقف لینا چاہیے تھا۔
اُنہوں نے وضاحت کی کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے چشمہ رایٹ بنک کے بارے میں اعلان کیا تھا کہ یہ منصوبہ وفاق اپنے اخراجات سے مکمل کرے گا۔ تاہم حالیہ اجلاس کے دوران اس جانب کوئی پیشرفت نہ ہو سکی بلکہ اب تو دوبارہ فزیبلٹی کی بات ہونے لگی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اکنامک کاریڈور کے ذریعے بجلی کے منصوبوں ، انڈسٹریل زونز اور دیگر منصوبوں کو شامل کرنے پر حکومت نے جس مصلحت سے کام لیا ابھی اس کی تلافی بھی نہیں ہوئی تھی کہ پہلے سے کیے گئے فیصلوں سے بھی روگردانی کی گئی۔
اُنہوں نے کہا کہ مصلحت ، چشم پوشی اور لاعلمی کے شکار وزیر اعلیٰ اب کے بار بھی اپنے کیے پر جلد یا بہ دیر پشیمانی کا اظہار کرتے دکھائی دینگے کیونکہ وہ ماضی میں بھی ایسا کرتے آئے ہیں اور اکنامک کاریڈور کی مثال اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔