2016 انتہا پسندی کے سر چشمے اور کارخانے بند کیے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ حاجی غلام بلور

انتہا پسندی کے سر چشمے اور کارخانے بند کیے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ حاجی غلام بلور

انتہا پسندی کے سر چشمے اور کارخانے بند کیے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ حاجی غلام بلور

مورخہ : 21 جنوری 2016 بروز جمعرات

انتہا پسندی کے سر چشمے اور کارخانے بند کیے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ حاجی غلام بلور
اے این پی کو عدم تشدد کی وکالت اور آزاد خارجہ پالیسی کی جدوجہد کی سزا دی جا رہی ہے۔
دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ ان کے ہمدردوں اور معاونین کو گرفت میں لائے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
جن لوگوں کو طالبان کی حمایت کی بنیاد پر برسراقتدار لایا گیا ان سے مزاحمت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور ممبر قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو طالبان اور دیگر انتہا پسندوں کی حمایت کی بنیاد پر صوبے میں برسر اقتدار لایا گیا ہے ان سے دہشتگردی کے خاتمے کی کوششوں یا مزاحمت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
بلور ہاؤس پشاور میں شہدائے چارسدہ کیلئے کی گئی قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کے موقع پر اپنے خطاب میں اُنہوں نے کہا ہے کہ جو عناصر برسوں اور دہائیوں سے انتہا پسندی کی حمایت اور معاونت کرتے آئے ہیں ان کا راستہ روکنے کیلئے کسی قسم کے سیاسی یا ریاستی اقدامات نہیں کیے جا رہے بلکہ ان کی غیر اعلانیہ سرپرستی کی جا رہی ہے اور اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ خطے کی نمائندہ جماعت اے این پی کو اس کے باوجود دیوار سے لگایا گیا کہ اس پارٹی نے امن کیلئے مسلسل جدو جہد کے علاوہ سینکڑوں کارکنوں اور درجنوں لیڈروں کی قربانی بھی دے رکھی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کو موجودہ خطرناک حالات تک پہنچانے میں کئی بڑے عوامل اور کردار کارفرما ہیں۔ تاہم ایک بات بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ اے این پی کو محض عدم تشدد کی وکالت امن کیلئے واضح موقف اور آزاد خارجہ پالیسی کی جدوجہد کی سزا دی جا رہی ہے اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ باچا خان کے نام پر قائم یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اُنہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کے سرچشمے اور کارخانے بند کیے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو ایک منصوبے کے تحت صوبے میں برسراقتدار لایا گیا ہے ان کا پس منظر اور عزائم کا سب کو علم ہے اس لیے ان سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ سیاسی اور ریاستی سطح پر دہشتگردوں کی مخالفت یا مزاحمت کر پائیں گے۔ اگر دہشتگردی کا خاتمہ کرنا مقصود ہے تو اس کے لیے لازمی ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کرنے کے علاوہ ان کے ہمدردوں اور معاونین کو بھی گرفت میں لایا جائے ورنہ صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی۔
دریں اثناء چوک یاد گار پشاور میں کرنسی صرافہ ایسوسی ایشن کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرتے وقت اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو کاروباری حلقوں اور ان کے کاروبار کو تحفظ دینے کیلئے اُنہیں ہراساں کرنے کی بجائے ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے کیونکہ ہمارے صوبے کے کاروباری اور معاشی حالات ویسے بھی ابتر ہیں اور ان کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے کے مزید منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

شیئر کریں