2016 امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو قبائلی عوام کی حمایت حاصل ہونی چاہئے،سردارحسین بابک

امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو قبائلی عوام کی حمایت حاصل ہونی چاہئے،سردارحسین بابک

امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو قبائلی عوام کی حمایت حاصل ہونی چاہئے،سردارحسین بابک

Babak

مورخہ 8جنوری 2016ء بروز جمعہ

امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو قبائلی عوام کی حمایت حاصل ہونی چاہئے،سردار حسین بابک
پولیٹیکل ایجنٹس کی جانب سے فاٹا سیاسی اتحاد کی تحریک کو ناکام بنانے کی سازشیں قابل مذمت ہیں
اے این پی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے ، آئی ڈی پیز کی واپسی کیلئے اقدامات کئے جائیں
قبائلی عوام میں سیاسی شعور بیدا رہو چکا ہے ، اور وہ اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے تمام اختلافات سے بالاتر ایک پیج پر متفق ہیں
اے این پی کے سابق دور حکومت میں اس سلسلے میں کافی اصلاحات کی گئیں لیکن بدقسمتی سے ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو وہاں کے عوام کی بھرپور حمایت و تائید حاصل ہونے چاہئے اور قبائلی عوام کے مسائل کے حل کیلئے گراس روٹ لیول تک اختیارات کی منتقلی وقت کا اہم تقاضا ہے ، باچا خان مرکز پشاور میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام گو نا گوں مسائل سے دوچار ہیں اور ان کے مسائل کا واحد حل بلدیاتی انتخابات ہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر پورے ملک میں عوامی مسائل کے حل کیلئے بلدیاتی انتخابات ضروری ہیں تو فاٹا کے عوام کو اس کے ثمرات سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا صوبے کی سات سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ فاٹا کے بنیادی مسائل حل کئے جائیں تاہم اس سلسلے میں قانون سازی اور اصلاحات کے عمل پر کام کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے پولیٹیکل ایجنٹس کی جانب سے فاٹا سیاسی اتحاد کی تحریک کو ناکام بنانے کی سازشوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اے این پی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتی ہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا میں عرصہ دراز سے رائج کالے قانون ایف سی آر کا خاتمہ ہونا چاہئے اور قبائلی عوام کے فیصلوں کا اختیار فرد واحد کی بجائے خود قبائلیوں کے پاس ہو جو جمہوریت کی اصل روح ہے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جوڈیشری اور ایگزیکٹو کو الگ کرنا ہوگا تا کہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان سمیت تمام آئی ڈی پیز کی جلد از جلد واپسی ممکن بنائی جائے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تا کہ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کا آغاز کر سکیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی کے سابق دور حکومت میں اس سلسلے میں کافی اصلاحات کی گئیں لیکن بدقسمتی سے ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ، قبائلی علاقوں میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کو قبائلی عوام کی سپورٹ حاصل ہونی چاہئے ورنہ ان کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں ہو گی ، انہوں نے کہا کہ پاک افغان تعلقات اہم موڑ پر ہیں اور قبائلی عوام کے مستقبل پر اس کے دورس اثرات مرتب ہونگے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی قبائلی علاقوں کی پیداوار نہیں بلکہ یہ ملک کی غلط پالیسیوں کے باعث ان پر مسلط کی گئی ہے ۔

شیئر کریں