sardar babak pic

مورخہ 14فروری 2016ء بروز اتوار
امن کیلئے بے پناہ قربانیوں اور مثالی حکومت کے باوجود اے این پی کو اسمبلیوں سے باہر رکھا گیا ، سردار حسین بابک
ان قوتوں کو حکومت دی گئی جو ماضی میں انتہا پسندوں کی حمایت کرتی آئی ہیں ۔
بہت سی قوتیں انتہا پسندی کے معاملے پر مصلحت ، خوف اور دباؤ کا شکار ہیں،تاہم اے این پی میدان میں ڈٹی ہوئی ہے
حکمرانوں نے سیاست اور حکومت کو مذاق بنا دیا ہے اور ان کو صوبے کے مفادات اور حقوق سے کوئی سروکار نہیں
صوبائی حکومت عوام کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو گئی ہے شاہ ڈھیری کبل سوات میں ورکرز کنونشن سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے تبدیلی کے نام پر صوبے کے عوام کو دھوکہ دیا ہے، حکمرانوں نے سیاست اور حکومت کو مذاق بنا دیا ہے اور ان کو صوبے کے مفادات اور حقوق سے کوئی سروکار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کے اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں اور وہ یہ بات جان چکے ہیں کہ صوبے کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کوئی دوسری قوت نہیں کر سکتی ، وہ شاہ ڈھیری تحصیل کبل ضلع سوات میں پی کے 82کے ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر اے این پی کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری واجد علی خان ، جائنٹ سیکرٹری پختونخوا حسین احمد عرف خان نواب ضلعی صدر شیر شاہ خان ضلعی جنرل سیکرٹری رحمت علی خان ،سابق ایم پی اے وقار احمد خان اور امیر زمان خان نے بھی خطاب کیا،سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ جس ڈالر گیم کی بنیاد پر برسوں قبل افغانستان میں اسلام کے نام پر جنگ کا آغاز کیا گیا تھا اس نے پاکستان کی پشتون بیلٹ خصوصاً فاٹا اور سوات کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تاہم اس تمام عرصہ کے دوران ہمارے اکابرین مخالفین کے الزامات اور رکاوٹوں کے باوجود یہی کہتے رہے کہ روس اور امریکہ کی جنگ میں فریق بننے سے گریز کیا جائے ورنہ یہ آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی تاہم ہماری بات نہیں سنی گئی اور اس آگ نے پشتون بیلٹ میں لاتعداد لوگوں کی جانیں لیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہیانہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مخالفت اور امن ، عدم تشدد اور تعلیم کی وکالت کی پاداش میں ہمارے ایک ہزار سے زائد کارکنوں نے جانوں کا نذرانی پیش کیا اور اس کا صلہ ہمیں اس صورت میں دیا گیا کہ ہمیں ایک منصوبے کے تحت پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا اور صوبے کا اختیار ایسے لوگوں کو دیا گیا جو کہ ماضی میں انتہا پسندی کے حامی رہے ہیں اور اب بھی کھل کر دہشت گردی کی مذمت نہیں کر رہے ، انہوں نے کہا کہ آج سوات اور صوبے میں نسبتاً جو امن قائم ہے اس کا تمام کریڈٹ اے این پی کو جاتا ہے اور اس امن میں ہمارے سینکڑوں شہداء کا خون شامل ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کی خوشحالی اور ترقی کیلئے ہم نے اپنی حکومت میں جو منصوبے مکمل کئے ملک کی 65سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ آج ایسے لوگوں کو اقتدار سونپا گیا ہے جن میں نہ تو حکومت چلانے کی صلاحیت ہے ا ور نہ ہی انہیں صوبے کے مفادات سے کوئی دلچسپی ہے موجودہ حکمرانوں نے صوبے کو تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام ووٹ دینے کے اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں اور اے این پی اس خطے کی نمائندہ پارٹی کے طور پر پھر سے اپنی جگہ پا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ بہت سی قوتیں انتہا پسندی کے معاملے پر مصلحت ، خوف اور دباؤ کا شکار ہیں تاہم اے این پی تمام تر قربانیوں ، زیادتیوں اور دباؤ کے باوجود میدان میں ڈٹی ہوئی ہے اور ہماری تحریک ، جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس خطے اور صوبے کو امن اور ترقی کا گہوارا نہیں بنایا جاتا ، انہوں نے کہا کہ یہ بڑی شرم کی بات ہے کہ موجودہ حکومت نے تعلیمی اداروں کو مورچوں میں تبدیل کر دیا ہے اور اساتذہ اور طلباء کو بندوقیں تھما دی گئی ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے واقعات نے امن سے متعلق دعوؤں کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو عوام عدم تحفظ کے باعث اپنی حفاظت کیلئے مزاحمت پر مجبور ہو جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی 2018ء کے الیکشن کیلئے بھرپور تیاری کر رہی ہے اور اس ضمن میں تمام فیصلے کارکنوں اور تنظیموں کی مشاورت اور مرضی سے کئے جائیں گے۔