مورخہ : 9.5.2016 بروز پیر

الیکشن کمیشن 12 مئی کے انتخابات میں سرکاری وسائل کے استعمال کا فوری نوٹس لے۔
انتخابی قوانی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔
پی کے 8 میں سرکاری اخراجات پر انتخابی سرگرمیاں اورجلسے جلوس ہو رہے ہیں۔ زاہد خان

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک ،مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر اورمرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد خان پر مشتمل وفد نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دورہ کیا اور پی کے 8 میں 12 مئی کو منعقد ہونے والے انتخابات میں عمران خان کے جلسوں کیلئے وسائل کے بے دریغ استعمال میڈیا پر سرکاری وسائل سے اخراجات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ افراسیاب خٹک نے کہا کہ کوئی پوچھنے والا نہیں اخراجات کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی نہ کرنا الیکشن کمیشن کی جانب داری ثابت کرتا ہے۔ زاہد خان نے کہا کہ بے حس الیکشن کمیشن کوئی ایکشن نہیں لے رہا ۔ اے این پی سو کے قریب انتخابی خلاف ورزیوں کے خلاف معاملات الیکشن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ الیکشن کمیشن ان پارٹیوں کی شنوائی کرتا ہے جو غیر مہذب زبان استعمال کرتی ہیں اور دباؤ بھی ڈالتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ایک وزیر علی امین گنڈا پور نے تین دن تک بیلٹ بکس کے صدوق گھر میں رکھے 2013 میں دیر سے کئی ہزار ووٹ پکڑے گیے۔ ایف آئی آر درج ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ووٹ مان چکے نہ پوچھ گچھ ہوئی نہ کارروائی۔ عمران خان اُردو بازار سے ووٹ چھپوانے کی بات کرتے ہیں ان کی حکومت کے حصہ دار سراج الحق نے بیلٹ پیپر کہاں سے چھپوائے ۔ افراسیاب خٹک ، بشریٰ گوہر اور زاہد خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اے این پی کی قیادت نے اپنے تحفظات کے باوجود اخلاقی سیاسی اور آئینی ڈیوٹی پوری کر دی ہے اور یقین ہے کہ الیکشن کمیشن پہلے کی طرح ابھی کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ مرکزی قائدین نے مزید کہا ہے کے این اے 246 کراچی ، این اے 122 لاہور میں پی ٹی آئی کے اشتہارات پر اربوں کھربوں کے اخراجات کے علاوہ پی کے 8 میں بھی بے دریغ خرچے کر کے انتخابی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔