مورخہ30 اپریل2016ء بروز ہفتہ

اقتدار کیلئے پارٹیاں بدلنے والے شخص کو اے این پی جیسی پارٹی کی مخالفت زیب نہیں دیتی۔ سردار حسین بابک
وزیر اعلیٰ نے حقائق کش رویہ اپنا کر غلط بیانی سے کام لیا ہے ۔ ان کو اپنے منصب کے تقاضوں کا بھی علم نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ وضاحت کریں کہ جس امن کی وہ بات کر رہے ہیں اس میں ان کی حکومت کا کیا اور کتنا حصہ ہے۔
اُن کے اپنے دور اقتدار میں حکمران جماعت کے چار ممبران اسمبلی سمیت سینکڑوں افراد دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
وزیر اعلیٰ بوکھلاہٹ میں الزام تراشی کی بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے نوشہرہ میں وزیرا علیٰ پرویز خٹک کی اے این پی مخالف تقریر اور حقائق کش الزامات کو موصوف کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے غلط بیانی اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کر کے عملاً یہی ثابت کیا ہے کہ وہ اتنے اہم منصب کے تقاضوں سے بے خبر ہیں وہ اے این پی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر ایسی باتیں کرنے لگے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ مذمتی بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ اے این پی نے امن ، ترقی ، تعلیم اور صوبے کے حقوق جیسے ایشوز پر کبھی بھی مصلحت سے کام نہیں لیا اور آج جن حقوق اور مراعات سے صوبے کے عوام ، موصوف اور ان کے ساتھی مستفید ہو رہے ہیں اس کا کریڈٹ اے این پی کو جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جس حکومت کو وہ کرپٹ قرار دے رہے ہیں وزیر اعلیٰ اس حکومت میں تین سال تک وزیر تھے۔ تاہم پارٹیاں بدلنے کی اپنی عادت کے باعث وہ اس سے الگ ہو کر نئی کشتی میں اس شرط پر سوار ہوئے کہ ان کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ بطور وزیر ان کی کارکردگی پر تبصرہ کرنا مناسب اس لیے نہیں کہ اس کا پورے صوبے کے سیاسی لوگوں اور عوام کو علم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے میدان میں ڈٹ کر دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور اس مزاحمت میں 800 سے زائد کارکنوں اور لیڈروں کی قربانی دی تاہم وزیر اعلیٰ اور ان کے ساتھیوں کو اب بھی اس الزام کا سامنا ہے کہ وہ خوفزدہ ہو کر اب بھی حملہ آور گروپوں کو بھتہ دے رہے ہیں۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ جس امن کی موصوف بات کر رہے ہیں اس کا کریڈٹ لیتے وقت وزیر اعلیٰ کو سوچنا چاہیے کہ اس میں ان کی حکومت کا کیا حصہ اور کردار ہے۔ یہ وہی شخص ہے جنہوں نے طالبان کو دفتر دلانے کا تاریخی فارمولا دیا تھا اور حکومت سنبھالنے کے بعد یہ مصلحت کوشش اور خوف کا شکار رہ کر امن کی بحالی سے متعلق معاملات سے بالکل لاتعلق رہے۔ سابق وزیر نے مزید کہا کہ موصوف کے دور اقتدار میں برسر اقتدار پارٹی کے چار ممبران اسمبلی کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ سینکڑوں دیگر معصوم شہری دہشتگردی کا شکار ہوئے تاہم وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت مسلسل مصلحت خوف اور لاتعلقی کی پالیسی پر گامزن رہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کے لیپس ہونے کا دوسروں کے علاوہ کابینہ کے متعدد ارکان اور پاپولر میڈیا مختلف اوقات میں ثبوتوں اور اعداد و شمار کی شکل میں خود اعتراف کرتے آئے ہیں ایسے میں وزیر اعلیٰ کا کہنا کوئی اخلاقی اور سیاسی جواز نہیں رکھتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی مثالی حکومت ، ترقیاتی منصوبوں اور تاریخی پس منظر ہی کا نتیجہ ہے کہ یہ وزیر اعلیٰ سمیت بہت سے دیگر کے اعصاب پر سوار ہیں اور ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ اُنہوں نے وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ اگر وہ حقائق کا ادراک نہیں رکھتے تو کم ازکم اپنے منصب کا خیال رکھا کریں کیونکہ اس قسم کی باتیں ان کو زیب نہیں دیتیں۔