مورخہ 18مارچ 2016ء بروز جمعہ
انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے علاقائی اور عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں کی جائیں، میاں افتخار حسین
جاری صورتحال نے خطے کے کروڑوں عوام کو سیاسی ، معاشی اور ثقافتی سطح پر بد ترین حالات اور نفسیاتی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے
افغانستان اور پاکستان کے پشتونوں اور عام لوگوں کا انتہا پسندی یا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہم پر دہشت گردی مسلط کی گئی ہے ،ہمارا خطہ ہر دور میں ایک شاندار تاریخی پس منظر کا حامل علاقہ رہا ہے، افراسیاب خٹک
مشترکہ کوششوں کے ذریعے پُر امن خطے کا قیام ناگزیر ہے ، افغان قونصلیٹ پشاور میں جشن نوروز کی تقریب سے خطاب
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ خطے میں جاری انتہا پسندی اور دہشت گردی نے کروڑوں لوگوں کو سیاسی، معاشی اور ثقافتی سطح پر بد ترین حالات اور نفسیاتی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے تاہم اس تشویشناک صورتحال سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ افغانستان ، پاکستان اور ایران جیسے ممالک علاقائی سلامتی اور استحکام کیلئے ایک صفحے پر آ جائیں تا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ایک پُر امن اور خوشحال خطے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
افغان قونصلیٹ پشاور میں جشن نوروز کی مناسبت سے ایک خصوصی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشاور جیسے شہر میں ایسی تقریبات کا انعقاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے تا کہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہم پُر امن سیاسی لوگ ہیں اور اپنی مٹی، امن ، ثقافت اور تاریخ سے محبت کرتے ہیں ۔اس موقع پر انہوں نے اپنی اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے افغان حکومت قائدین اور عوام کو جشن نوروز کی مبارکباد پیش کی ۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے پشتونوں کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ان کو چالیس سال سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے براہ راست اثرات کا سامنا ہے اور بعض اقدامات کے باوجود یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے جس کی تازہ مثال گزشتہ روز پشاور کا سانحہ ہے جس میں ایک درجن سے زائد معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ ہے تاہم افغانستان اور پاکستان کے عوام کو اس ناسور نے شدید نقصان پہنچایا ہے، اس لئے لازمی ہے کہ اس مسئلے کے حل کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سنجیدہ کوششیں کی جائیں تا کہ خطے کے کروڑوں عوام کی سلامتی اور خوشحالی اور ترقی کو ممکن بنایا جا سکے ، اے این پی کے رہنما نے مزید کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود انتہا پسندی کے مائنڈ سیٹ کا پُر امن سیاسی جدوجہد اور شعوری کو ششوں کے ذریعے ڈٹ کر مقابلہ کیا جا ئے گا تاہم اس مسئلے کے حل کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان ،ایران اور افغانستان جیسے ممالک خطرات کا ادراک کرتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں اور اس لائحہ عمل کو ان عالمی قوتوں کی حمایت بھی حاصل ہونی چاہئے جو کہ دنیا اور خطے سے انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک نے کہا کہ انتہا پسندوں نے اس خطے کے عوام کو نہ صرف یہ کہ جانی اور معاشی نقصان پہنچایا بلکہ اس نے ہماری تاریخ ،معاشرت اور ثقافت کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ،حالانکہ ہمارا خطہ ایک شاندار تاریخی پس منظر کا حامل رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم پر دہشت گردی مسلط کر دی گئی ہے اور ہم دوسروں کی امن دشمن پالیسیوں کے نتائج بھگتے آ رہے ہیں، تقریب سے دوسروں کے عالوہ افغان قونصلر جنرل ڈاکتر عبدالوحید پویان،ایرانی قونصلر جنرل اور متعدد دیگر نے بھی خطاب کیا ، تقریب میں اے این پی کے مرکزی قائدین حاجی محمد عدیل ، ارباب محمد طاہر خان خلیل ، جمیلہ گیلانی اور متعدد دیگر بھی شریک ہوئے۔