مورخہ 28اپریل2016ء بروز جمعرات

افغانستان میں عدم استحکام کے منفی اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ سکتا، اسفندیار ولی خان
چار میں سے تین ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ قابل تشویش ہے
افغانستان میں قیام امن کیلئے وہاں کی حکومت کے ساتھ ملکرکام کرنا ناگزیر ہو چکا ہے
ملک کو درپیش پیچیدہ اور سنگین مسائل کے حل کیلئے اجتماعی توانائیاں بروئے کار لانا ہونگی۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے خطے اور دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اندرونی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے پارلیمان کو غور و فکر اور فیصلہ سازی کا محور بنائے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو درپیش پیچیدہ اور سنگین مسائل کا حل کسی ایک پارٹی یا ادارے کے پاس نہیں ہے بلکہ اس کیلئے اجتماعی دانائی اور توانائی کوبروئے کار لانا نا گزیر ہوچکا ہے۔اپنے ایک اخباری بیان میں اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ چار میں سے تین ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بگاڑ قابل تشویش ہے۔خصوصا افغانستان میں بڑھتا ہوا تشدد اور عدم استحکام نہ صر ف برادر اورپڑوسی ملک کے عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ اس رحجان کے منفی اثرات سے خود پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔گزشتہ چالیس سال کا تجربہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ علاقائی عدم استحکام اور بد امنی چین پاکستان اقتصادی راہداری اور وسطی ایشیا سے تاپی گیس جیسے منصوبوں کیلئے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے ا س لئے افغانستان میں قیام امن کیلئے وہاں کی حکومت کے ساتھ ملکرکام کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔اسفند یار ولی خان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جہاں تک پانامہ لیکس کا تعلق ہے اس کی شفاف اور قابل اعتماد تحقیق ضروری ہے۔اس سلسلے میں مجوزہ عدالتی کمیشن کے دائرہ اختیار کے تعین کے سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کے نقطہ نظر کو جگہ دینا بھی ضروری ہے تاکہ اس معاملے کی کھلے طریقے سے تحقیق ممکن ہو۔اے این پی کے سربراہ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ پانامہ لیکس اور کرپشن کی تحقیق کے حوالے سے سیاسی اختلاف کے چیلنج کو ملک کے ریاستی و سیاسی نظام میں ایک اصلاح کے موقع کے طور پر اس طرح بدلا جا سکتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں او رپارلیمنٹ ملک کے اندر احتساب کیلئے ایک مستقل آئینی ادارے کے قیام پر متفق ہو جائیں۔احتساب کا مجوزہ آئینی میکنزم سیاسی انتقامی یا پارٹی ا ور ادارہ جاتی مفاد ات سے بالا تر ہو کر ممکنہ بحرانوں سے بچا جا سکتا ہے تاکہ حکومت اور ریاست عوام کی سماجی ،اقتصادی ترقی اور مستحکم وفاقی جمہوری نظام کی تعمیر پر اپنی توجہ مذکور کر سکیں۔