مورخہ 19فروری 2016ء بروز جمعہ
اصلاحات کے نام پر محکمہ صحت کی نجکاری کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، سردار حسین بابک
بڑے بڑے دعوے کرنے والی جماعت نے تین سالہ دور حکومت میں محکمہ صحت کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے
اجتماعی نوعیت کے عوامی فیصلے فرد واحد کی سوچ کے تحت کئے جا رہے ہیں جسے عوامی مسائل کو کوئی ادراک نہیں
تین سال کے طویل عرصہ میں کوئی ہیلتھ پالیسی سامنے نہیں آئی بلکہ خود حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہیں
بنیادی صحت مراکز اپنے چہیتوں کو نوازنے کیلئے نیلام کئے جا رہے ہیں ،اے این پی ان کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ہیلتھ پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ صحت کو مفروضوں کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے، جنکہ محکمے کو تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات نام کی کوئی چیز نہیں،جبکہ غریب مریض نت نئے اور فرد واحد کے تصواراتی تجربات سے تنگ آ چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت بوکھلاہٹ میں سرکاری ملازمین کے خلاف ایف آئی آرز کٹوا رہی ہے لیکن زور بازو سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ملازمین کو ہراساں کرنا حکمرانوں نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے کے تمام آر ایچ یوز اور بی ایچ یوز اور سول ڈسپنسریوں کا ٹھیکہ اپنے چہیتوں کو نوازنے کیلئے دیا جا رہا ہے اور اسے پبلک سیکٹرز کو اونے پونے داموں نیلام کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ18ویں ترمیم کے بعد جو محکمے صوبوں کے حوالے کئے گئے ان میں سے ایک محکمہ صحت بھی ہے تاہم تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اجتماعی نوعیت کے عوامی فیصلے فرد واحد کی سوچ کے تحت کئے جا رہے ہیں جسے عوامی مسائل کو کوئی ادراک نہیں،انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بڑے بڑے دعوے کرنے والی جماعت نے تین سالہ دور حکومت میں محکمہ صحت کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں جبکہ تین سال کے طویل عرصہ میں کوئی ہیتھ پالیسی سامنے نہیں آئی بلکہ خود حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک ایسے منظم منصوبے کے تحت بڑی بڑی کمپنیوں کیلئے راہ ہموار کر رہی ہے اور اب اقربا پروری کی خاطر محکمہ صحت کو بھی بیچ دیا گیا ہے جبکہ غریب مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں انہوں نے قومی اور بین الاقوامی میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ صوبے میں محکمہ صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا تجزیہ کر کے غریب عوام کے دکھ درد کا مداوا کریں، انہوں نے کہا کہ صوبائی ہیلتھ پالیسی کی غیر موجودگی میں اصلاحات کے نام پر محکمہ صحت کی نجکاری کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔