مورخہ 11اپریل2016ء بروز پیر

آخری دہشت گرد کے خاتمے تک سیا سی قیادت نشانہ بنتی رہے گی، اسفندیار ولی خان
عوامی نیشنل پارٹی تمام سازشوں کے باوجود عوام سے رابطہ ختم نہیں کریگی
جمشید علی خان کا قتل افسوس ناک ہے ، خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن ہونا چاہئے

پشاور ( پ ر ) دہشت گرد بزدلانہ کاروائیوں سے ہمارا عزم کمزور نہیں کر سکتے ۔اے این پی قربانیوں کی تاریخ کی امین پارٹی ہے۔دہشت گرد یاد رکھیں اے این پی کو عوام سے الگ کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے سوات میں پارٹی رہنما اور سابق رہنما سید جمشید علی کے ٹارگٹ کلنگ اور بنوں میں کا رکن کے لا پتہ ہونے پر اپنے مذمتی بیان میں واضح کیا ہے کہ جب تک نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل نہیں کیا جاتا اور ضرب عضب آپریشن کا دائرہ کار پورے صوبے کے ہر گلی محلے تک نہیں بڑھایا جاتا اس وقت تک دہشت گردانہ ذہنیت کی فیکٹریوں سے دہشت گردوں کی پیداوار بند نہیں ہو سکتی۔اسفند یار ولی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف پوری قوم متحد ہے ۔آخری دہشت گرد کا جب تک خاتمہ نہیں ہوتا قومی سلامتی کے ادارے اور سیا سی قیادت نشانہ بنتی رہیں گی۔اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف صوبہ خیبر پختون خوامیں سخت آپریشن نہ کرنے کا واضح مطلب ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے سرپرستوں ،سہولت کاروں اور مددگاروں کی محفوظ پنا ہ گاہوں کاخاتمہ نہیں چاہتی۔اسفندیار ولی خان نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ سراج الحق خبروں میں زندہ رہنے کی بجائے اتحادی صوبائی حکومت سے صوبے میں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کے لیے عملی اقدامات کروائیں۔اسفد یار ولی خان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی تمام حربوں کے باوجود عوام سے رابطہ ختم نہیں کریگی اور ملک و ملت کو محفوظ بنانے کیلئے اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔