مورخہ : 6.4.2016 بروز بدھ

آثار بتا رہے ہیں کہ پنجاب میں دہشتگردوں کے خلاف ایکشن پر سٹیک ہولڈرز ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ میاں افتخار حسین
مرکزی اور صوبائی حکومتیں دہشتگردی کے سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہیں جو کہ تشویشناک ہیں۔
ایک سازش کے تحت 30 مئی 2015 کے روز میرا گھیراؤ کیا گیا اور ایف آئی آر میں مجھے قاتل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔
پنجاب کا درد بانٹنے لاہور گئے کیونکہ ہم اس درد کو محسوس کر سکتے ہیں۔
نوشہرہ میں بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے بات چیت

پشاور( پریس ریلیز ) اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں دہشتگردی کے سنگین مسئلے کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہیں جبکہ پنجاب میں آپریشن کے معاملے پر عسکری قیادت اور پنجاب ، مرکزی حکومتیں بھی ایک پیج پر نہیں ہیں تاہم دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام قوتوں کا ایک صفحے پر آنا اور پنجاب سمیت پورے ملک میں بلا امتیاز کارروائیاں ناگزیر ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی لازمی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک بار پھر نظر ثانی کی جائے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نوشہرہ کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے اور مقامی میڈیا سے بات چیت کے دوران اُنہوں نے کہا کہ اے این پی برسوں سے دہشتگردی کا شکار رہی ہے جبکہ صوبے کے عوام نے بھی لاتعداد جانوں کی قربانیاں دے رکھی ہیں۔ یہی وہ درد تھا جو کہ ہم نے لاہور حملے کے بعد محسوس کیا اور ہم نے پنجاب کے ساتھ نہ صرف یہ کہ عملی اظہار یکجہتی بھی کیا بلکہ تکرار کیساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ پنجاب اور پورے ملک کے مفاد اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز دہشتگردی کے معاملے پر ایک صفحے پر آجائیں اور افغانستان کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے۔
اُنہوں نے وکلاء کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران 30 مئی 2015 کے بلدیاتی الیکشن کے دوران ان پر کرائے گئے اور ان کے خلاف جھوٹے اور یکطرفہ ایف آئی آر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ باچا خان کے سپاہی کی حیثیت سے عدم تشدد کے علمبردار رہے ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ اُنہوں نے اکلوتے بیٹے کی شہادت کے بعد امن کے بدلے بیٹے کا خون معاف کرنے کے اعلان کی صورت میں کیا کیونکہ ہم سیاست میں ذاتیات کے نہیں بلکہ نظریات کے قائل رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ 30 مئی کے واقعے کے دوران حکومتی سرپرستی میں بدنیتی اور انتقام پر مبنی رویے کے باعث نہ صرف یہ کہ ان کا گھیراؤ کرتے ہوئے ان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ مقتول لڑکے کے والد کے مسلسل انکار اور لاتعلقی کے باوجود ایف آئی آر میں ان کو مورد الزام قرار دیا گیا اور کوشش کی گئی کے حکومتی سرپرستی میں ان کو مقامی سیاست کے تناظر میں قاتل بنا کر پیش کیا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ کس کے فیصلے اور پراسس میں چار ماہ کا عرصہ لگایا گیا اور تحقیقاتی عمل میں رکاوٹیں ڈال کر بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا تاہم حق اور سچ کی جیت ہوئی اور وہ سرخرو ہوئے۔
قبل ازیں میاں افتخار حسین نے بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران کو الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی جبکہ اُنہوں نے نوشہرہ میں باچا خان کرکٹ ٹورنامنٹ کی تقریب میں بھی بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔