2016 آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی میں مزید تاخیر کی گئی تو عوام کا اعتماد اُٹھ جائیگا، سردارحسین بابک

آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی میں مزید تاخیر کی گئی تو عوام کا اعتماد اُٹھ جائیگا، سردارحسین بابک

آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی میں مزید تاخیر کی گئی تو عوام کا اعتماد اُٹھ جائیگا، سردارحسین بابک

12511014_162957397403008_573619868_o

مورخہ 5 جنوری 2016ء بروز منگل
* آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے باوجود قبائلی عوام کی مشکلات کم نہیں ہو رہی ہیں جو کہ تشویشناک ہے ’ سردار حسین بابک ‘
* اگر آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی میں مزید تاخیر کی گئی تو عوام کا اعتماد اُٹھ جائیگا۔
* اے این پی حسب سابق قبائل کے حقوق کیلئے آواز اُٹھاتی رہے گی ۔شمالی وزیرستان کے نمائندہ وفد کی میاں افتخار حسین اور سردارحسین بابک سے ملاقات
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ قبائل کو تمام تر حکومتی وعدوں اور دعوؤں کے باوجود شدید ترین معاشی اور معاشرتی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے اور اگر ریاستی اداروں نے ان میں پائی جانے والی مسلسل بے چینی اور تشویش کے ازالے کیلئے ٹھوس اور فوری اقدامات نہیں کئے تو قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد اُٹھ جائیگا اور اس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں شمالی وزیرستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے ایک نمائندہ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین بھی موجود تھے وفد نے دونوں لیڈروں کو ان مشکلات اور مسائل سے آگاہ کیا جو کہ ان کو درپیش ہیں۔
سردار حسین بابک نے اس موقع پر کہا کہ اے این اپنے قبائلی بھائیوں کے حالات سے لاتعلق نہیں رہ سکتی اور یہی وجہ ہے کہ پارٹی ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی رہی اور ان کے حقوق کی آوازہر فورم پر اُٹھاتی رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے باوجود قبائلی عوام کی مشکلات اور شکایات کم یا ختم نہیں ہو رہی ہیں۔ اب بھی لاکھوں قبائل کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور ان کی واپسی یا بحالی میں مسلسل تاخیر سے کام لیا جاتا رہا ہے جس کے باعث ان کی بے چینی میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بدقسمتی سے قبائل کی بحالی کی کوششوں سے غیر اعلانیہ طور پر لاتعلقی اختیار کی ہوئی ہے اور ان اعلانات یا وعدوں پر عمل نہیں کیا جا رہا جو کہ ان کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ قبائل کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کو وہی حقوق حاصل ہیں جو کہ ملک کے دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا اور ان کے ساتھ حسب سابق امتیاز برتا جاتا رہا تو اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے بھی وفد کو پارٹی کی جانب سے یقین دلایا کہ اے این پی حسب سابق اپنے قبائلی بھائیوں کے ساتھ ان کے حقوق کی جدوجہد میں کھڑی رہے گی اور اس مقصد کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔

شیئر کریں