مورخہ : 5.3.2016 بروز ہفتہ

آئی ڈی پیز کی بحالی اور علاقے کی تعمیر میں تاخیر کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ حاجی غلام احمد بلور
متاثرین اور فاٹا کیلئے آنے والی غیر ملکی امداد کی تفصیلات بتائی جائیں کہاں اور کیسے خرچ ہوئی
لاکھوں قبائلی انتہائی کسمپرسی کی حالت سے دوچار ہیں۔ وعدے اور دعوے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔
* اگر قبائل کی شکایات کا ازالہ نہیں کیا گیاتو حالات میں کوئی تبدیلی یا بہتری نہیں آئیگی۔

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی مرکزی سینئر نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے وزیرستان کے متاثرین کی بحالی اور علاقے کی تعمیر نو میں مبینہ سست روی پر دُکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر متعلقہ حکومتی اداروں نے متاثرین کی شکایات اور تکالیف کے خاتمے کیلئے اپنے رویے تبدیل نہیں کیے تو بے بس قبایلی عوام کا ریاست پر سے اعتماد اُٹھ جائیگا اور ان کی قربانیاں رائیگاں چلی جائیں گی۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے کہا کہ آپریشن کے تین سال گزرنے کے باوجود لاکھوں متاثرین انتہائی کسمپرسی کے حالات سے دوچار ہیں۔ ان کے کاروبار ، مکانات اور دیگر جائیدادیں تباہ ہو گئی ہیں۔ بچوں کا تعلیمی تسلسل ٹوٹ گیا ہے اور وہ حکومتی دعوؤں کے برعکس بنیادی انسانی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ حکومتیں متاثرین کی بحالی ، واپسی اور علاقے کی تعمیر نو سے لاتعلقی کی پالیسی پر گامزن ہیں اور وہ وعدے اور دعوے تاحال عملی اقدامات کے منتظر ہیں جو کہ ان کے ساتھ آپریشن سے پہلے یا اس کے بعد کیے گئے تھے۔
سابق وفاقی وزیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے جو غیر ملکی امداد آتی رہی ہیں اُس کی تفصیلات قوم کو بتائی جائیں اور یہ وضاحت بھی کی جائے کہ یہ امداد کہاں ، کیسے اور کتنی خرچ ہوئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حال ہی میں جرمنی نے متاثرین کیلئے 12کروڑ 57 لاکھ یورو کی جو امداد دی ہے اُس کی تفصیلات بھی قبائلی عوام کو بتائی جائیں اور ساتھ میں اس بات کو بہر صورت یقینی بنایا جائے کہ قبائل کیلئے آنے والی امداد کسی کٹوتی یا تاخیر کے بغیر ان کی بحالی ، علاقے کی تعمیر نو اور ترقی پر خرچ کی جائے تاکہ آپریشن کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور قبائلی عوام کے دُکھوں کا مداوا بھی ممکن بنایا جا سکے۔
اے این پی کے مرکزی رہنما نے خبر دار کیا کہ اگر دہشتگردی کے یقینی خاتمے کی کوششوں کے علاوہ قبائل باالخصوص وزیرستان کے متاثرین کے مسائل کے مستقل حل پر توجہ نہیں دی گئی اور اُن کی بحالی میں تاخیر یا کوتاہی سے کام لیا جاتا رہا تو اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے اور حالات میں کوئی تبدیلی اور بہتری نہیں آئیگی۔